پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا نیا ریکارڈ، اتار چڑھاؤ کا رجحان برقرار
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی تیزی کا نیا ریکارڈ قائم ہوا، تاہم مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا رجحان جاری رہا۔
کاروباری ہفتے کے تیسرے دن (بدھ کے روز) کاروبار کا آغاز 601 پوائنٹس کی شاندار تیزی کے ساتھ ہوا، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر ایک لاکھ 75 ہزار 74 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جسے مارکیٹ کے لیے مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
بعد ازاں کاروباری دورانیے میں حصص کی خرید و فروخت میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور انڈیکس 220 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ 74 ہزار 252 پوائنٹس پر آ گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مارکیٹ میں مسلسل تیزی کے باوجود سودوں میں اتار چڑھاؤ کا رجحان موجود ہے۔
سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا رجحان برقرار رہا، مگر بعض حصص میں منافع کی نکاسی نے انڈیکس پر معمولی دباؤ ڈال دیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ہفتے کی مسلسل تیزی کے اثرات رواں کاروباری ہفتے کے پہلے دو روز (پیر اور منگل) میں بھی جاری رہے، جس کے دوران اسٹاک مارکیٹ نے تاریخ ساز ریکارڈ قائم کیے۔ انڈیکس کی بڑھتی ہوئی سطح اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیزی اور اتار چڑھاؤ کے رجحان کے ساتھ محتاط سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، تاکہ منافع کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے اور مارکیٹ کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں اتار چڑھاؤ اتار چڑھاؤ کا کا رجحان
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز