اتر پردیش: ہائی وے پر ٹرک حادثہ، ایک شخص جاں بحق، خوفناک ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اتر پردیش کے رام پور نینیتال نیشنل ہائی وے پر ایک دل دہلا دینے والا حادثہ پیش آیا، جس میں ایک شخص موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا، یہ خوفناک واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا، اور ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ حادثہ گنج کوتوالی کے علاقے میں پہاڑی گیٹ کے قریب پیش آیا، جہاں بھوسے سے بھرا ایک ٹرک بے قابو ہو کر سڑک پر چلتی مہندرا بولیرو گاڑی پر الٹ گیا، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرک پہلے بولیرو کے پیچھے سے آتا ہے اور اچانک الٹ کر پوری گاڑی کو کچل دیتا ہے۔
حادثے میں بولیرو کے ڈرائیور فراست موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کی لاش ٹرک کے نیچے پھنس گئی تھی، جسے کرین اور جے سی بی مشین کی مدد سے نکالا گیا اور بعد ازاں ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کیا گیا۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ودیا ساگر مشرا نے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں اور ابتدائی طور پر خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ٹرک یا تو اوورلوڈ تھا یا تیز رفتاری کے باعث موڑ پر بے قابو ہو گیا۔ حادثے کے بعد ہائی وے پر ٹریفک کئی گھنٹوں تک متاثر رہی۔
یہ حادثہ علاقے میں سڑک کے خطرناک موڑ اور اوورلوڈ شدہ ٹرکوں کے مسائل کی یاد دہانی بھی کراتا ہے اور عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں