کائنات کا انجام بدل سکتا ہے؟ ڈارک انرجی پر چونکا دینے والی تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
جنوبی کوریا کے محققین کی ایک ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ ڈارک انرجی سے تعبیر کی جانیوالی ایک پراسرار قوت کائنات کو اس انداز میں متاثر کر رہی ہے کہ مستقبل میں وہ سکڑ کر تباہ بھی ہو سکتی ہے، جسے سائنس کی زبان میں ’بِگ کرنچ‘ کہا جاتا ہے۔
سیول کی یونسی یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی تازہ تحقیق کے مطابق کائنات مسلسل پھیلنے کے بجائے اب سست روی کا شکار ہو چکی ہے اور ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث کہکشائیں دوبارہ ایک دوسرے کی طرف کھنچنا شروع ہو جائیں، جو بالآخر کائنات کے خاتمے پر منتج ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
محققین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت فلکیات میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
Our Universe is heading for gravitational collapse known as the ‘Big Crunch’ as dark matter is ‘rapidly changing’: study https://t.
— New York Post (@nypost) December 29, 2025
ان کے مطابق بگ بینگ کے بعد وجود میں آنے والی کائنات اب تیز رفتاری سے پھیل نہیں رہی بلکہ ڈارک انرجی کے بدلتے اثرات کے باعث اس کی توسیع سست پڑتی جا رہی ہے۔
تحقیق کے سربراہ پروفیسر ینگ ووک لی کے مطابق ان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں کائنات سست رفتار توسیع کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور ڈارک انرجی وقت کے ساتھ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں:
’۔۔۔اگر یہ نتائج درست ثابت ہو گئے تو یہ 27 سال قبل ڈارک انرجی کی دریافت کے بعد کاسمولوجی میں ایک بڑا نظریاتی انقلاب ہوگا۔‘
ڈارک انرجی کیا ہے؟ماضی میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ کششِ ثقل کے باعث کائنات کی توسیع بتدریج سست ہو جائے گی، تاہم 1998 میں ماہرینِ فلکیات نے ڈارک انرجی کے شواہد دریافت کیے، جسے کائنات کی تیز رفتار توسیع کی بنیادی وجہ سمجھا جاتا ہے۔
کچھ نظریات کے مطابق اگر کائنات اسی طرح پھیلتی رہی تو ستارے ایک دوسرے سے اتنی دور ہو جائیں گے کہ رات کے آسمان میں کچھ نظر ہی نہیں آئے گا، جبکہ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ قوت ایٹمز کو بھی چیر سکتی ہے، جسے ’بِگ رِپ‘ کہا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:
مارچ میں ایریزونا کے صحرا میں نصب ڈارک انرجی اسپیکٹرواسکوپک انسٹرومنٹ یعنی ڈیسی سے حاصل ہونے والے نتائج نے بھی وقت کے ساتھ کہکشاؤں کی رفتار میں تبدیلی کے شواہد فراہم کیے ہیں۔
ڈیسی منصوبے سے وابستہ یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر اوفر لہاو کے مطابق ڈارک انرجی کے بڑھنے اور پھر کم ہونے کے آثار ایک نئے میکنزم کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں، جو پوری طبیعیات کے لیے ہلچل مچا سکتے ہیں۔
تاہم کیمبرج یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرونومی سے تعلق رکھنے والے سینیئر ماہرِ فلکیات پروفیسر جارج ایفستھیاؤ سمیت بعض سائنس دانوں نے پروفیسر لی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے مزید شواہد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسپیکٹرواسکوپک ایریزونا پراسرار قوت جنوبی کوریا ڈارک انرجی فلکیات کائنات کشش ثقل لندن نظریاتی انقلاب یونیورسٹی کالج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایریزونا پراسرار قوت جنوبی کوریا ڈارک انرجی فلکیات کائنات نظریاتی انقلاب یونیورسٹی کالج ڈارک انرجی کے مطابق
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔