عمران خان سزا پوری کریں، مذاکرات میں رہائی پر بات نہیں ہوگی، گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
عمران خان سزا پوری کریں، مذاکرات میں رہائی پر بات نہیں ہوگی، گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی WhatsAppFacebookTwitter 0 31 December, 2025 سب نیوز
پشاور (سب نیوز)گورنر خیبر پختونخوا نے کہا ہے کہ عمران خان پانی سزا پوری کریں، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں رِہائی سے متعلق بات نہیں ہوگی۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اپنی سزا مکمل طور پر بھگتیں گے اور انہیں کسی صورت این آر او نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی سے مذاکرات ہوتے بھی ہیں تو ان میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی زیر بحث نہیں آئے گی۔فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی سے مذاکرات کے معاملے پر اب تک پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی گئی، اگر واقعی سنجیدہ مذاکرات کی بات ہوتی تو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اس حوالے سے بیان دیتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ماضی میں بھی اس جماعت نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ایک شخص کے لیے پورے صوبے کو تباہ کیا ہوا ہے۔ پارٹی کو چاہیے کہ وہ صوبے کے عوام پر بھی توجہ دے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی 16 ماہ کی حکومت کے دوران اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا گیا، تاہم اس کے بعد 9مئی کے واقعات پیش آئے جن سے سیاسی ماحول مزید خراب ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ اس بات کی حامی رہی ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سیاستدان خود نکالیں، لیکن پی ٹی آئی قیادت کا طرزعمل متضاد ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف بانی پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی سے متعلق اشتعال انگیز بیانات سامنے آتے ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔فیصل کریم کنڈی نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کو یہ طے کرنا ہوگا کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے، کیونکہ پارٹی کے اندر ایک دوسرے پر اعتماد کی کمی واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی میں امپورٹڈ لیڈرز پر کام شروع ہو چکا ہے۔ اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے نام دیے گئے، جن کے بارے میں خود پی ٹی آئی کو معلوم نہیں کہ ان کی سیاسی ایکسپائری کب ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردوہزارپچیس میں روسی خارجہ پالیسی کے کلیدی نتائج ڈھاکا: اسمبلی ایاز صادق سے بھارتی وزیرخارجہ کی ملاقات بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ازبکستان کا جی ڈی پی پہلی بار 145بلین ڈالر سے تجاوز کرگیا پاک چین مذاکرات، وزیر خارجہ اسحاق ڈار آئندہ ہفتے چین کا دورہ کریں گے دنیا میں سب سے پہلے کون سا ملک 2026ء میں داخل ہوگا؟ ’’اب ہم اعلیٰ عدلیہ نہیں ہیں‘‘جسٹس جمال مندوخیل کے کیس کی سماعت میں ریمارکسCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی پی ٹی آئی بات نہیں نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔