83 کروڑ کی نمبر پلیٹ فروخت، اس میں خاص بات کیا ہے آخر؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
دبئی کی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) نے اپنی 120 ویں اوپن نیلامی میں منفرد لائسنس پلیٹس کی فروخت سے ریکارڈ آمدنی حاصل کی، جو 109,026,000 درہم رہی۔ یہ اب تک کی سب سے بڑی نمبر پلیٹ نیلامی قرار دی جارہی ہے۔
نیلامی 27 دسمبر کو منعقد ہوئی جس میں بولی دہندگان نے 2، 3، 4 اور 5 ہندسوں والی منفرد نمبر پلیٹس حاصل کرنے کے لیے لاکھوں درہم کی پیشکش کی۔ نیلامی میں AA, BB, CC, K, N, O, R, T, U, V, W, X, Y، اور Z کوڈز کی 90 پلیٹس پیش کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی بادشاہ چارلس کے بچپن میں کاٹے گئے بال نیلامی کے لیے پیش، نائی نے کتنی قیمت لگائی؟
سب سے زیادہ بولی BB12 کے لیے ہوئی جو 9.
نیلامی میں حصہ لینے کے لیے شرائط میں دبئی میں ٹریفک فائل کا ہونا، 25,000 درہم کا سیکیورٹی چیک، اور غیر واپسی پذیر 120 درہم کی رجسٹریشن فیس شامل تھی۔ ادائیگی ویب سائٹ کے ذریعے کریڈٹ کارڈ سے بھی ممکن تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے سے بنا فن یا سرمایہ داری پر طنز؟ دنیا کا مہنگا ترین ٹوائلٹ نیلامی کے لیے تیار
RTA نے اس نیلامی کو شفافیت اور غیر جانبداری کے اصولوں کے تحت منعقد کیا تاکہ ہر کسی کو منفرد اور علامتی اہمیت رکھنے والی نمبر پلیٹس حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کروڑوں کی نمبر پلیٹ نمبر پلیٹ نیلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کروڑوں کی نمبر پلیٹ نمبر پلیٹ نیلامی نمبر پلیٹ کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔