یورپ میں ٹرین سروس معطل، ہزاروں مسافر پریشان
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
برطانیہ(ویب ڈیسک) یوروسٹار نے چھٹیوں میں سفر کے دوران بجلی کے مسئلے پر یورپ کی تمام ٹرینوں کو معطل کر دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی کے مسائل اور پھنسی ہوئی ٹرین نے ریل ٹریفک میں خلل ڈال دیا ہے جس سے برطانیہ کو کانٹیننٹل یورپ سے منسلک کرنے والے انڈر سی سرنگ سے آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔
آپریٹر نے لندن ، پیرس ، ایمسٹرڈیم اور برسلز کے مابین ٹرین کے تمام سفر کو ملتوی کر دیا ہے۔ جس کے بعد مسافر اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش کر رہے ہیں۔
یوروسٹار کے ترجمان نے بتایا کہ “چینل سرنگ میں بجلی کی فراہمی کا ایک مسئلہ تھا جس کے بعد شٹل ٹرین اندر رک گئی اس لیے غیر معینہ مدت تک لندن جانے اور جانے والے تمام سفر معطل کر دیئے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔