WE News:
2026-07-24@04:04:16 GMT

وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

وزارت توانائی، پاور ڈویژن نے سال 2025 میں عوام، صنعتی صارفین اور قومی معیشت کے لیے بے مثال اقدامات کیے، جو برسوں ٹلتے رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت اور وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کی رہنمائی میں کیے گئے فیصلوں سے صارفین کی بجلی کی قیمتوں میں کمی، نجکاری اور گرین انرجی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی۔

وزارت توانائی نے نہ صرف صارفین کے بجلی بلوں میں ریلیف فراہم کیا بلکہ ملکی بجلی نظام کو مضبوط اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار بنانے کے لیے اہم اقدامات بھی کیے۔

بجلی کے نرخوں میں کمی اور صارفین کے لیے ریلیف

حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی 8.

35 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 16.68 روپے فی یونٹ تک کم کی گئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کیے گئے اور صارفین کو ادائیگی میں رعایت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی

منفی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کسانوں کے ٹیوب ویل اور 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین نے ریلیف حاصل کیا۔ روشن معیشت پیکیج کے تحت نعتی اور زرعی صارفین کو 3 سال اضافی بجلی استعمال کرنے پر 22.98 روپے فی یونٹ کی سہولت دی گئی۔

آئی پی پیز اور ناکارہ پاور پلانٹس

آئی پی پیز کے ساتھ مشکل مذاکرات کے بعد صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کیا گیا۔ ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے تنخواہوں کے لیے 7 ارب روپے کا بوجھ عوام سے ہٹا دیا گیا۔ بجلی کی زیادہ پیداوار کو دیکھتے ہوئے 9500 میگاواٹ کے آئندہ منصوبے ختم کر کے صارفین کو فی یونٹ ایک روپے کے ممکنہ اضافے سے بچایا گیا۔

بجلی کے نظام میں شفافیت اور ریکوری

3 بجلی کمپنیوں کی نجکاری کا آغاز ہوا اور پی ٹی وی فیس ختم کر دی گئی۔ بغیر مزید قرضے لیے گردشی قرضوں میں 780 ارب روپے کی کمی لائی گئی۔ الیکٹرک وہیکلز کے چارجنگ ٹیرف میں 44 فیصد کمی کی گئی اور میٹر ریڈنگ کے لیے عوام کو اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ایپ استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا۔ جدید 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارش کلچر کا خاتمہ اور سب صارفین کے ساتھ یکساں سلوک ممکن ہوا۔

گرین انرجی اور مستقبل کی منصوبہ بندی

وزارت توانائی نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ گرین انرجی منصوبہ شروع کیا، جس سے پاکستان خطے میں گرین انرجی کا لیڈر بن گیا۔ آج ملک کی 55 فیصد بجلی ماحول دوست ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے اور 2034 تک اس کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ وزارت نے نجی شعبے کے تحت آزاد اور مسابقتی بجلی نظام کو مضبوط کیا اور ماہر نوجوان پروفیشنلز کی میرٹ پر تقرری یقینی بنائی۔

موسمی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال

ملک میں بجلی کی پلاننگ اور عمل درآمد کے دوران عوام اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔ حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کے معاملات سے الگ رہتے ہوئے صارفین کو بین الاقوامی معیار اور قیمت پر بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ وزارت توانائی کا عزم ہے کہ 2026 میں بھی عوام اور صنعتی صارفین کے لیے بے مثال کارکردگی جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاور ڈیژن گرین انرجی وزارت توانائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزارت توانائی وزارت توانائی صارفین کے لیے صارفین کو بجلی کی فی یونٹ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ