WE News:
2026-06-02@22:11:36 GMT

وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

وزارت توانائی کی سال 2025 کی کارکردگی: بجلی صارفین کے لیے ریلیف

وزارت توانائی، پاور ڈویژن نے سال 2025 میں عوام، صنعتی صارفین اور قومی معیشت کے لیے بے مثال اقدامات کیے، جو برسوں ٹلتے رہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت، چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حمایت اور وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری کی رہنمائی میں کیے گئے فیصلوں سے صارفین کی بجلی کی قیمتوں میں کمی، نجکاری اور گرین انرجی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی۔

وزارت توانائی نے نہ صرف صارفین کے بجلی بلوں میں ریلیف فراہم کیا بلکہ ملکی بجلی نظام کو مضبوط اور ماحولیاتی لحاظ سے پائیدار بنانے کے لیے اہم اقدامات بھی کیے۔

بجلی کے نرخوں میں کمی اور صارفین کے لیے ریلیف

حکومت کی جانب سے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ بجلی 8.

35 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 16.68 روپے فی یونٹ تک کم کی گئی۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے بل معاف کیے گئے اور صارفین کو ادائیگی میں رعایت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی، بھارت نے دریائے چناب پر متنازع پن بجلی منصوبے کی منظوری دے دی

منفی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت کسانوں کے ٹیوب ویل اور 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین نے ریلیف حاصل کیا۔ روشن معیشت پیکیج کے تحت نعتی اور زرعی صارفین کو 3 سال اضافی بجلی استعمال کرنے پر 22.98 روپے فی یونٹ کی سہولت دی گئی۔

آئی پی پیز اور ناکارہ پاور پلانٹس

آئی پی پیز کے ساتھ مشکل مذاکرات کے بعد صارفین اور قومی خزانے پر 3400 ارب روپے کا بوجھ ختم کیا گیا۔ ناکارہ پاور پلانٹس کی بندش سے تنخواہوں کے لیے 7 ارب روپے کا بوجھ عوام سے ہٹا دیا گیا۔ بجلی کی زیادہ پیداوار کو دیکھتے ہوئے 9500 میگاواٹ کے آئندہ منصوبے ختم کر کے صارفین کو فی یونٹ ایک روپے کے ممکنہ اضافے سے بچایا گیا۔

بجلی کے نظام میں شفافیت اور ریکوری

3 بجلی کمپنیوں کی نجکاری کا آغاز ہوا اور پی ٹی وی فیس ختم کر دی گئی۔ بغیر مزید قرضے لیے گردشی قرضوں میں 780 ارب روپے کی کمی لائی گئی۔ الیکٹرک وہیکلز کے چارجنگ ٹیرف میں 44 فیصد کمی کی گئی اور میٹر ریڈنگ کے لیے عوام کو اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ایپ استعمال کرنے کا اختیار دیا گیا۔ جدید 118 ہیلپ لائن کے آغاز سے سفارش کلچر کا خاتمہ اور سب صارفین کے ساتھ یکساں سلوک ممکن ہوا۔

گرین انرجی اور مستقبل کی منصوبہ بندی

وزارت توانائی نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ گرین انرجی منصوبہ شروع کیا، جس سے پاکستان خطے میں گرین انرجی کا لیڈر بن گیا۔ آج ملک کی 55 فیصد بجلی ماحول دوست ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے اور 2034 تک اس کا حصہ 90 فیصد تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ وزارت نے نجی شعبے کے تحت آزاد اور مسابقتی بجلی نظام کو مضبوط کیا اور ماہر نوجوان پروفیشنلز کی میرٹ پر تقرری یقینی بنائی۔

موسمی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال

ملک میں بجلی کی پلاننگ اور عمل درآمد کے دوران عوام اور صنعتی ضروریات کو مدنظر رکھا گیا۔ حکومت نے بجلی کی خرید و فروخت کے معاملات سے الگ رہتے ہوئے صارفین کو بین الاقوامی معیار اور قیمت پر بجلی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ وزارت توانائی کا عزم ہے کہ 2026 میں بھی عوام اور صنعتی صارفین کے لیے بے مثال کارکردگی جاری رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاور ڈیژن گرین انرجی وزارت توانائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: وزارت توانائی وزارت توانائی صارفین کے لیے صارفین کو بجلی کی فی یونٹ

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان