اسپیکر قومی اسمبلی اور بھارتی وزیرِ خارجہ کا ڈھاکہ میں مصافحہ، مسکراہٹوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکہ میں ادا کر دی گئی۔ جنازے کے بعد تعزیتی ملاقاتوں کے دوران پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ شخصیات کے درمیان غیر رسمی ملاقات اور مصافحہ بھی ہوا۔خالدہ ضیا کی نمازِ جنازہ ڈھاکہ میں پارلیمنٹ کمپلیکس کے سامنے ادا کی گئی، جس میں بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس، مقامی رہنماؤں سمیت بڑی تعداد میں عوام شریک تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے اعلی ٰسطح کے رہنماؤں کا آمنا سامنا ہوا ہے۔ڈھاکہ کے قومی پارلیمنٹ کمپلیکس میں پاکستان اور بھارت کے رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب دونوں ممالک کے وفود خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان سے تعزیت کر رہے تھے۔تقریب میں پاکستان کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور بھارت کے وزیرِ خارجہ جے شنکر کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر ایاز صادق کی جانب آئے اور مصافحہ کیا۔ اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹ اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔رواں سال مئی میں ہونے والی مختصر جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے اور ہر قسم کے سیاسی اور سفارتی رابطے منقطع ہیں۔اس کشیدگی کے اثرات سفارتی حلقوں کے علاوہ کھیل کے میدان میں بھی دیکھنے آئے تھے۔ ایشیا کپ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔بھارتی کرکٹ بورڈ نے اس عمل کو باقاعدہ پالیسی قرار دیا تھا اور صدر ایشین کرکٹ کونسل محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔اس کے بعد بھی مختلف مواقع پر بھارت کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں ’نو ہینڈ شیک‘ پالیسی دیکھنے میں آئی تھی۔رواں سال دبئی ایئر شو میں بھی بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے پاکستانی پویلین کے دورے کے موقع پر غیر رسمی ملاقات کی تصاویر سامنے آنے پر بھی بھارت میں خوب ہنگامہ ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: غیر رسمی ملاقات اور بھارت کے درمیان کے بعد
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔