بلوچستان میں پراکسی جنگ، پاکستان کا دوٹوک پیغام: ہر خلاف ورزی پر سخت ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی علاقائی سالمیت کی کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ خلاف ورزی پر سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بلوچستان سے متعلق 18ویں قومی ورکشاپ کے شرکاء نے ملاقات کی، جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز بلوچستان میں تشدد، بے امنی اور منفی پروپیگنڈا پھیلا رہی ہیں اور صوبے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں اور سکیورٹی فورسز بھارتی حمایت یافتہ عناصر کے مذموم عزائم کو سخت کارروائیوں سے ناکام بنائیں گی۔ انہوں نے بلوچستان کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کی حوصلہ مندی اور حب الوطنی قابلِ تحسین ہے، جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی مرکزیت کے ساتھ ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کر رہی ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سیشن کے اختتام پر سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔