سالِ نو مبارک؛ 2026 کا رنگا رنگ آتش بازی سے شاندار استقبال، موسیقی اور رقص
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
دنیا کے کئی ممالک میں 2025 کا سورج ڈوب گیا اور رات 12 بجتے ہی شاندار آتش بازی اور رنگا رنگ جشن کے ساتھ سال نو 2026 کا آغاز ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سال 2026 کا آغاز سب سے پہلے بحر الکاہل کے نیم آباد علاقوں سے ہوا جس کے بعد نیوزی لینڈ اور پھر آسٹریلیا میں نئے سال نے قدم رکھا۔
سال نو کے پہلے بھرپورجشن کا اہتمام نیوزی لینڈ کا سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں کیا گیا تھا جہاں 12 بجتے ہی آسمان پر برق و نور کے نظارے پھوٹ پڑے۔
نیوزی لینڈ میں شاندار آتش بازی سے شہریوں نے نئے سال کا استقبال کیا۔ شہری بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور ہم آواز ہوکر کاؤنٹ ڈاؤن میں حصہ لیا۔
جیسے ہی گھڑیال نے 12 بجے کا ڈنکا بجایا۔ ہر طرف سے رنگا رنگ آتش بازی شروع ہوگئی اور آسمان پر حسین اور دلکش مناظر دیکھنے کو ملے۔
نیوزی لینڈ کے بعد نئے کو خوش آمدید کہنے والی دوسری قوم آسٹریلوی ہیں جہاں تقریباً ہر بڑے شہر میں جشن سال نو کی تقاریب کا انتظام کیا گیا۔
آسٹریلیا کے دارالحکومت سڈنی کے ہاربر پُل پر ہزاروں لوگ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کیلیے جمع ہوئے اور رات 12 بجتے ہی شاندار آتش بازی کے ساتھ 2026 کا استقبال کیا گیا۔
بعد ازاں جاپان نئے سال میں داخل ہوا جہاں 2026 کے آغاز پر روایتی عبادت کر کے اسکا استقبال کیا گیا۔ جس کے بعد جنوبی کوریا کا نمبر ہے۔
علاوہ ازیں چین، فلپائن، ملائیشیا، انڈونیشیا، برونائی، ہانگ کانگ، شنگاپور اور مکائو میں سال نو کا آغاز ہوگیا۔
منگولیا کے کچھ حصوں، انٹارکٹیکا کے کچھ حصوں اور روس کے خطے ارکتسک کے ساتھ تائیوان میں بھی سال 2026 کا آغاز ہوگیا۔
تھائی لینڈ میں نئے سال کا آغاز روایتی انداز سے ہوا جبکہ ویتنام، کمبوڈیا، لاؤس، آسٹریلیا کے کرسمس آئی لینڈ میں نئے سال کی انٹری ہوگئی اور روس، انڈونیشیا کے کچھ حصوں میں نئے سال کا آغاز ہوگیا۔
خیال رہے کہ جزائر غرب الہند میں جزیرہ کیرٹیمیسی نئے سال کا استقبال کرنے والا پہلا آباد جزیرہ ہے جس کی آبادی تقریبا پانچ ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
دنیا میں سال نو منانے والا سب سے آخری علاقہ امریکا کا ساموا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا ا غاز ہوگیا نئے سال کا ا میں نئے سال کا استقبال نیوزی لینڈ لینڈ میں کیا گیا سال نو
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔