دنیا کا سب سے وزنی انسان 41 برس کی عمر میں چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
دنیا کے سب سے موٹے شخص کے طور پر پہچانے جانے والے میکسیکو کے جوآن پیڈرو فرانکو 41 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان کی موت گردوں کے شدید انفیکشن کے باعث ہوئی، جس کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جوآن پیڈرو فرانکو کچھ عرصے سے شدید انفیکشن میں مبتلا تھے اور اسپتال میں زیرِ علاج تھے، تاہم علاج کے باوجود ان کی حالت مسلسل بگڑتی چلی گئی۔ بالآخر گردوں کے انفیکشن نے ان کی جان لے لی۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ کے مطابق جوآن پیڈرو فرانکو کو 2017 میں دنیا کا سب سے وزنی زندہ انسان قرار دیا گیا تھا، جب ان کا وزن 1,322 پاؤنڈ، یعنی تقریباً 600 کلوگرام تک پہنچ چکا تھا۔ اس غیر معمولی وزن کے باعث وہ طویل عرصے تک بستر تک محدود رہے اور روزمرہ زندگی کے معمولات انجام دینا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق زندگی میں بہتری کی امید کے تحت جوآن پیڈرو نے وزن کم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے سرجری کروائی اور سخت ڈائیٹنگ کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ان کے وزن میں بتدریج کمی آئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ 600 کلوگرام سے وزن کم کرکے 590 کلوگرام تک لے آنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوآن پیڈرو
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔