چیلنجز کے باوجود ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
فائل فوٹو۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن صرف اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کا نہیں غور و فکر اور عزم کی تجدید کا دن ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو ہمیں شدید چیلنجز کی شکار معیشت ورثے میں ملی، معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا۔
انھوں نے کہا کہ 1997 میں ہم نے معاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا کیا، معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افراطِ زر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا، زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، گزشتہ 2 سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افراط زر 29.
وزیراعظم نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.3 ارب ڈالر سے تبدیل ہو کر 1.9 ارب ڈالر کے سرپلس میں بدل چکا ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب تقریباً 8 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد سے زائد ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 10لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں، 2025ء میں ٹیکس وصولیوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے، قومی ایئر لائن اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کامیابی سے مکمل کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چیلنجز کے باوجودہم نے ملک کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا ہے، 2024 میں اقتدار سنبھالا تو درپیش چیلنجز کا بخوبی علم تھا، مالی نظم و ضبط بحال اور سرکاری مالیاتی نظام کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی نظام کو وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل نظام پرمنتقل کیا، عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے معاشی بہتری اور اصلاحات کو سراہا، معاشی بہتری کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ای پروکیورمنٹ کے ذریعے شفافیت آئی، حکومت کے مشکل فیصلوں کے نتائج خود بول رہے ہیں، پرائمری خسارے سے نکل کر پرائمری سرپلس میں داخل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان شاء اللّٰہ ہم اپنے اہداف مکمل عزم کے ساتھ حاصل کریں گے، الحمدللّٰہ، اصلاحات کا سفر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو کاروبار کے لیے زیادہ آسان ملک بنانے پر توجہ مرکوز ہے، ہمیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ ارب ڈالر
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔