بین الاقوامی ہوٹل چین سرینا نے خیبر پختونخوا کے سیاحتی ضلع سوات میں سیاحت کی پہچان سمجھے جانے والے سوات سرینا ہوٹل کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق تقریباً 40 برس بعد ہوٹل کی سرگرمیاں ختم کی جا رہی ہیں۔

سرینا ہوٹلز کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ عمران حسن کی جانب سے جاری خط میں بتایا گیا ہے کہ سوات سرینا ہوٹل نے 4 دہائیوں تک ملکی و غیر ملکی سیاحوں، سفارتی وفود، کارپوریٹ اداروں، سرکاری حکام، آئی این جی اوز اور این جی اوز کو خدمات فراہم کیں اور وادی سوات سمیت پورے خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات میں داخلے کے لیے فیس مقرر، ’اگلے سال ویزا لگوا کر جانا پڑے گا‘

سرینا ہوٹلز کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ مراسلے کے مطابق سوات سرینا ہوٹل یکم جنوری 2026 سے مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔

مراسلے میں مہمانوں، شراکت داروں اور ٹریول گائیڈز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مقامی معیشت کے استحکام اور سیاحتی سرگرمیوں کے فروغ میں ان کے اعتماد اور تعاون نے نمایاں کردار ادا کیا، جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سرینا ہوٹلز نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ سوات سرینا ہوٹل کی سرگرمیاں ختم کی جا رہی ہیں، تاہم ایشیا اور افریقہ میں موجود اپنے 33 ہوٹلوں، جن میں پاکستان کے 10 ہوٹل بھی شامل ہیں، میں مہمانوں کو بدستور اعلیٰ معیار کی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سیاحت سے 21 ارب ڈالر کی آمدنی، مزید اضافے کی توقع

سیاحتی حلقوں کے مطابق سوات سرینا ہوٹل کی بندش نہ صرف علاقے کی سیاحتی صنعت بلکہ مقامی روزگار کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔ ٹریول ایجنٹس اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سوات سرینا ہوٹل طویل عرصے تک وادی سوات کی پہچان رہا اور اس کی بندش سے خطے کی سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

سوات سرینا ہوٹل کیوں بند ہوا؟

سرینا ہوٹل کے ایک ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سوات میں دہشت گردی اور اس کے بعد ہونے والے عسکری آپریشن کے باوجود ہوٹل فعال رہا اور مقامی و غیر مقامی سیاح یہاں آتے رہے، جس سے سیاحت کو فروغ ملا۔

ان کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے انتظامیہ اور حکومت کے درمیان تعاون کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاحوں کو کلیئرنس کے نام پر تنگ کیا جاتا تھا جبکہ پولیس کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ کو بھی بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ایکو ٹورازم منصوبے فطری مقامات کو جدید سیاحتی مراکز میں بدل رہے ہیں، مریم نواز

انہوں نے کہا کہ حکومتی عدم تعاون کی وجہ سے کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا تھا، جس کے باعث انتظامیہ نے طویل غور و فکر کے بعد یہ مشکل فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ہوٹل کے عملے کو دیگر سرینا ہوٹلوں میں منتقل کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سوات سرینا ہوٹل سیدو شریف میں سابق والیِ سوات کے محل کے قریب واقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Serena Hotel Swat خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا سیاحت سیاحت سیرینا ہوٹل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا خیبرپختونخوا سیاحت سیاحت سیرینا ہوٹل سوات سرینا ہوٹل کے مطابق کہ سوات ہوٹل کی

پڑھیں:

راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد

تھانہ نیو ٹاؤن کے ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد ہوئی ہے۔ 

پولیس کے مطابق سندھ سے تعلق رکھنے والے کاشف علی نے ہوٹل کا کمرہ بک کرایا تھا، کافی وقت گزرنے پر کمرے سے جواب نہ ملنے پر ہوٹل انتظامیہ نے پولیس سے رجوع کیا۔ 

پولیس پہنچنے پر کمرہ کھولا گیا تو اندر سے کاشف علی کی پھندا لگی نعش ملی، پولیس نے فرانزک شواہد اکٹھے کرکے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن