پختونخوا میں تجارت‘ سیاحت کا فروغ امن سے مشروط ہے، فیصل کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-08-12
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تجارت اور سیاحت کا فروغ امن سے مشروط ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، خیبرپختونخوا قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، ملکی ترقی اورخوشحالی کیلیے ملکرآگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کوسازگارماحول فراہم کرنے کیلیے پرعزم ہے، صوبے میں امن ہوگا توتجارت اورسیاحت میں اضافہ ہوگا۔گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ سیاحت کے فروغ کیلیے اقدامات کرنیکی ضرورت ہے، پاکستان نے ہر محاذ پر بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کی۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پنجاب کا دورہ آفیشل نہیں تھا،پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔