وفاقی کابینہ کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص فروخت کی منظوری کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251231-01-13
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) کابینہ کی نجکاری کمیٹی(سی سی او پی) نے عارف حبیب کنسورشیم کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائن (پی آئی اے) کے 75 فیصد حصص کیلیے دی گئی 135 ارب روپے کی بولی کی توثیق کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کو اس کی منظوری کیلیے سفارش کردی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ نجکاری کے عمل کو بروقت مکمل کرنے کیلیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی آئی اے کی نجکاری سے قومی ائرلائن ایک بار پھر اپنے سنہری دور کی طرف لوٹ سکے گی۔ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری (سی سی او پی) کا اجلاس کمیٹی کے چیئرمین اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر توانائی، وزیراعظم کے مشیران برائے نجکاری، صنعت و پیداوار، خصوصی معاونین وزیراعظم سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت نجکاری نے پاکستان انٹرنیشنل ائرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔