ایف بی آر میں انتظامی کمزوریاں، ٹیکس ہدف پورا نہ ہوسکا، آئی ایم ایف
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں انتظامی کمزوریوں کی نشاندہی کردی۔
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ انتظامی خامیوں کی وجہ سے گزشتہ سال ٹیکس ہدف پورا نہیں ہوسکا، ایف بی آر کو بجٹ میں طے ہدف کے مقابلے 1.2 کھرب روپے کم ٹیکس ملا،آئی ایم ایف
آئی ایم ایف کے مطابق سیلز ٹیکس اور درآمدی ٹیکس میں سب سے زیادہ شارٹ فال رہا، آئی ایم ایف کے طے کردہ ریویو ہدف سے بھی 524 ارب روپے جمع ہوئے، 850 ارب روپے کی کمی، کم مہنگائی اور کم معاشی ترقی کی وجہ سے ہوئی۔ باقی 380 ارب روپے کی کمی انتظامی مسائل اور کمزور نفاذ کے باعث ہوئی۔
آئی ایم ایف نے ٹیکس کیسز نمٹائے جانے میں تاخیر کی بھی نشاندہی کر دی تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2004،25 میں گزشتہ سال کی نسبت ٹیکس وصولی میں 26 فیصد بہتری آئی۔
دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بغیر جواز آمدن کم ظاہر کرنے پر قانونی کارروائی کا عندیہ دیدیا۔ ایف بی آر نے ایکسپورٹرز کے ٹیکس گوشواروں کی جانچ کی ہدایت کر دی، بڑے شہروں کے 10سے 30 بڑے ایکسپورٹرز کی نشاندہی کا حکم دیدیا۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بڑے برآمد کنندگان فہرست میں شامل ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد ایکسپورٹرز نےقابل ٹیکس آمدن کم ظاہر کی ہے، اسکروٹنی کا فیصلہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 154 میں ترمیم کے بعد کیا گیا، فنانس ایکٹ کے تحت برآمدی آمدن پر فائنل ٹیکس کے بجائے کم ازکم ٹیکس نافذ ہے۔
بڑے برآمدکنندگان کی قابل ٹیکس آمدن میں اچانک کمی پر ایف بی آر نے اظہار تشویش کیا ہے، فیلڈ فارمیشنز کو برآمدکنندگان کے گوشواروں کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت کردی گئی، یکم جنوری 2026 تک مشکوک ایکسپورٹرز کی تفصیلات ایف بی آر کو جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔