جمہوری اداروں اور حکومتی امور پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوگیا، پلڈاٹ
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے پاکستان میں جمہوریت کے معیار پر جائزہ رپورٹ برائے سال 2025 جاری کردی۔
پلڈاٹ کی طرف سے رپورٹ میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ جمہوری ادارے ظاہری طور پر اپنی شکل برقرار رکھنے میں تو کامیاب رہے لیکن عملی طور پر ان کی کارکردگی سیکیورٹی پر مبنی طرز حکمرانی کے باعث بتدریج زوال پذیری کا شکار رہی،
سال 2025ء میں مجموعی طور پر ہائبرڈ طرز حکمرانی کے ماڈل کو کسی قسم کے رکاوٹ کی بجائے استحکام حاصل رہا۔
سیکیورٹی پر مبنی ماحول نے بالخصوص مئی 2025ء میں پاک بھارت مسلح تصادم کے بعد سے پاکستان میں جمہوری اداروں اور حکومتی امور سمیت تمام معاملات پر سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط کردیا، اس "ہائبرڈ" ماڈل کو سویلین حکومت کی مکمل حمایت حاصل رہی۔
علاقائی سلامتی کے پیش نظر بشمول بھارت اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی، مسلسل داخلی شورشوں اور شدید سیاسی تقسیم نے پاکستان کو ایک سیکیورٹی پر مبنی ریاست بننے میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پلڈاٹ کے مطابق 2025ء نے ایک ہائبرڈ طرز حکمرانی کے ماڈل کو ادارہ جاتی نشان زدگی فراہم کیا جس میں جمہوری ادارے، سیکیورٹی اداروں کی طرف سے متعین کردہ خطرات اور ترجیحات کے حدود و قیود کے اندر کام کرتے ہیں کیونکہ اب سیکیورٹی خدشات جمہوری اصولوں اور اقدار پر غالب آ گئے ہیں۔
پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ نے نتیجہ خیز 27ویں آئینی ترمیم کو محدود بحث اور اتفاق رائے سے منظور کیا، پلڈاٹ نے مشاہدہ کیا کہ دونوں ایوانوں میں قائد حزب اختلاف کے دفاتر میں خالی آسامیوں کو جاری رکھنے سے پارلیمانی نمائندگی اور نگرانی بھی کمزور پڑ گئی ہے۔ انتظامی اتھارٹی رسمی طور پر سویلین رہی لیکن کافی حد تک محدود ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر حکومت کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم اور وزیر دفاع کے بیانات نے ہائبرڈ ماڈل کو باقاعدہ بنانے کی مثال دی۔ عدلیہ نے 2025 کے دوران اہم ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کا تجربہ کیا کیونکہ آئینی ترمیم نے ایک نئی وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، عام شہریوں کے لیے فوجی عدالتوں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ غیر معمولی حالات میں کی جانے والی اعلیٰ سطح احتسابی کارروائیوں نے اجتماعی طور پر شفاف قانونی عمل کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا۔ قومی فیصلہ سازی میں سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار دہشت گردی کے بڑے واقعات، مغربی سرحد پر مسلسل عدم استحکام اور 2025ء میں پاک بھارت تصادم کے بعد اور بھی نمایاں ہو گیا، یہ آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی کمان کی تنظیم نو، فیلڈ مارشل کے نمائندے کے ذریعے ادارے کی ترقی اور سیکیورٹی کے مسائل پر سیاسی تبصرے کے ذریعے فوجی کمان کی تنظیم نو سے ظاہر ہوا۔ انتخابی عمل ضمنی انتخابات کے ذریعے جاری رہا لیکن ووٹر ٹرن آؤٹ، بائیکاٹ اور سیاسی عدم دلچسپی نے عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی ان کی صلاحیت کو محدود کردیا، کمزور داخلی جمہوریت اور کم سے کم بین الجماعتی مکالمے کے ساتھ، سیاسی جماعتیں انتہائی مرکزیت اور مخصوص خاندانوں کے زیر تسلط رہیں۔ سال 2025ء میں جمہوری طرز حکمرانی کی سب سے کمزور جہتوں میں سے ایک رہی۔ آبادی والے دائرہ اختیار میں منتخب مقامی حکومتوں کی مسلسل غیر موجودگی نے نچلی سطح پر جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون میں ترامیم کے بعد میڈیا کی آزادی اور شہری آزادیوں کا دائرہ مزید محدود ہوا۔ صحافیوں اور سماجی کارکنوں نے ایک ایسے ماحول میں کام کیا جہاں اختلافِ رائے کو اکثر قومی مفاد کے خلاف قرار دیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں جمہوری کے ذریعے کے ساتھ ماڈل کو
پڑھیں:
پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے روبوٹکس اور اٹانومس سسٹمز کی ترقی کے لئے سپارک اینڈ ایلیویٹ پروگرام کے آغاز اور 20 ملین ڈالر کا پاکستان وینچر فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے۔
اسلام آباد میں انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انڈس راس روبوٹکس اینڈ اٹانومس سسٹمز ایکسپو سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں صف اول کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے، یہ نمائش اور اس طرح کے اقدامات پاکستان کو 21ویں صدی کی جدید ٹیکنالوجی میں صف اول کا ملک بنائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے اوائل میں پاکستان نے انڈس اے آئی سمٹ کی بھی میزبانی کی، جس سے مصنوعی ذہانت کے دور میں پاکستان کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیےحکومتی نمائندوں، ٹیکنالوجی لیڈرز اور محققین کاروباری افراد کو مل بیٹھنے کا موقع ملا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ آج انڈس راس ایکسپو سے اس وژن کو عملی شکل دینے کا موقع حاصل ہوا ہے کہ کس طرح جدت کو فعال سلوشنز میں تبدیل کریں، روبوٹکس اور ڈرونز کی جدت سے معیشت مضبوط سلامتی بہتر اور عوام کی زندگی آسان ہوگی، اس جہت نے اکیڈیمیا، انڈسٹری، اسٹارٹ اپس اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے بچپن میں ٹیکنالوجی کی جدت بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن کی آمد تھی اور خاندان کے تمام افراد’’اچے برج لاہور دے‘‘ جیسی پاکستان ٹیلی ویژن کی کلاسک نشریات کو مل کر دیکھتے تھے لیکن آج دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں بہت آگے بڑھ گئی ہے اور ہم تاریخ کے ایک غیر معمولی دور میں ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
ان کا کہنا تھا کہ زرعی پیداوار کے لیے پانی اور دیگر بنیادی عوامل کی ضرورت، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آج ٹیکنالوجی کی جدید شکل ہمارے سامنے موجود ہے، آج مشینیں محسوس کر کے تیزی سے فیصلے اور ان پر عمل درآمد کرتی ہیں جو کبھی خواب لگتا تھا آج حقیقت بن کر ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ فخریہ طور پر کہتا ہوں کہ پاکستان نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبے میں ملکی صلاحیتیں بڑھانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، سلامتی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جدید ٹیکنالوجی اپنائی، سیمولیٹرز 100 فیصد پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں مسلح افواج نے جدید آٹونومس سسٹمز اور سائبر سیکیورٹی کے ذریعے سرحدوں کا دفاع کیا، معرکہ حق میں فیلڈ مارشل کی سربراہی میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی معاونت شان دار رہی اور ہماری مسلح افواج نے ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے آہنی عزم کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ ملکی صلاحیتوں، ٹیکنالوجی کی ترقی اور اور آپریشنل مہارت کا بھی بھرپور ثبوت دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی شعبے میں شان دار کامیابیاں مادر وطن کے قومی دفاع کا لازمی جزو ہیں، اس سے ہمارے سیکیورٹی کا نظام مضبوط ہوگا، دفاع مزید ناقابل تسخیر ہو جائے گا اور اس سے ابھرتے اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرے گا، دفاع میں آٹونومس صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چند جدید معیشتوں، بڑی کارپوریشنز اور بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سب کے لیے مساوی ترقی ہونی چاہیے، کسانوں کی حالت بہتر ہو، چھوٹے کاروبار فروغ پائیں،کاروبار کرنے والی خواتین کو سہولیات ملیں اور کمزور طبقات کو فائدہ پہنچے، محفوظ اور شفاف آٹونومس سسٹمز کے لیے واضح قانون سازی اور اخلاقی فریم ورک بنانا چاہیے۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
مزید :