سڈنی میں نئے سال کی تقریبات، بانڈی بیچ حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کو خراج عقیدت
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں نئے سال کی آمد اس بار روایتی جوش و خروش کے بجائے غم، یکجہتی اور خراجِ عقیدت کے ماحول میں ہوئی۔
چند ہفتے قبل بانڈی بیچ میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہونے والے 15 افراد کی یاد میں ہزاروں افراد نے سڈنی ہاربر پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2026 کا نیوزی لینڈ کے بعد سڈنی سے بھی رنگا رنگ آغاز، آتش بازی کا مظاہرہ
بانڈی بیچ حملے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے رات 11 بجے شہریوں نے اپنے موبائل فون کی لائٹس روشن کیں، جبکہ سڈنی ہاربر برج پر منورہ، امن کی علامت کبوتری نقش اور الفاظ ‘امن’ اور ‘اتحاد’ نمایاں طور پر روشن کیے گئے۔ یہ منظر دہشت گردی کے خلاف اجتماعی عزم اور متاثرہ یہودی برادری سے یکجہتی کی علامت تھا۔
حملے کے بعد شہر میں خوف کی فضا موجود رہی، تاہم عوام نے دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم کے تحت گھروں سے نکل کر یہ پیغام دیا کہ آسٹریلوی معاشرہ خوف کے آگے جھکنے والا نہیں۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ہزاروں مسلح پولیس اہلکار تعینات رہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس موقع پر کہا کہ بانڈی بیچ حملے نے ہمیں دکھ ضرور دیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ آسٹریلوی عوام کی ہمت، ہمدردی اور اتحاد بھی دنیا کے سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرقی وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا سڈنی واقعے کا دوسرا ہیرو جسے دہشتگرد سمجھ کر فائر کھولا گیا
یاد رہے کہ 14 دسمبر کو بانڈی بیچ پر ہنوکا کی تقریب کے دوران دہشت گرد حملے میں 15 افراد جاں بحق اور 41 زخمی ہوئے تھے، جس نے پورے ملک کو سوگ میں مبتلا کر دیا تھا۔
خاموشی کے اس لمحے کے بعد سڈنی ہاربر پر آتش بازی کی گئی، مگر اس بار یہ جشن کم اور شہدا کے نام ایک باوقار خراجِ عقیدت زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔ عوام کا کہنا تھا کہ یہ اجتماع صرف نئے سال کی خوشی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف یکجہتی کا پیغام بھی تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بانڈی بیچ حملہ سال 2026 سال نو سڈنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بانڈی بیچ حملہ سال 2026 سال نو بانڈی بیچ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔