نئے آسمانوں میں نئی اُڑان: پی ٹی سی ایل نے باضابطہ ٹیلی نار پاکستان کا انتظام سنبھال لیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کی ترقی کا ایک تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے ٹیلی نار پاکستان اور اوریون ٹاورز (Orion Towers) کے جاری شدہ 100 فیصد حصص کی خریداری کا عمل مکمل کرکے باضابطہ طور پر ٹیلی نار پاکستان کا انتظام سنبھال لیا ہے، جس سے ملک بھر میں ڈیجیٹل با اختیاری اور انقلابی تبدیلی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ہے۔
آج سے ٹیلی نار پاکستان اور اوریون ٹاورز، پی ٹی سی ایل کی 100 فیصد ملکیتی ذیلی کمپنیوں کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے اور پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (یوفون فورجی) اور یو مائیکروفنانس بینک کے شانہ بشانہ پی ٹی سی ایل کا حصہ ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی سی ایل-ٹیلی نار انضمام کی منظوری، سی سی پی نے کڑی شرائط رکھ دیں
ٹیلی نار پاکستان عبوری مدت کے دوران ایک علیحدہ قانونی ادارے کے طور پر کام جاری رکھے گا۔ ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے بعد پی ٹی ایم ایل اور ٹیلی نار پاکستان کو مستقبل میں ایک مربوط ادارے کی صورت میں آپس میں ضم کردیا جائے گا۔
اس موقع پر پی ٹی سی ایل نے پاکستان کے ٹیلی کام شعبے کی ترقی میں ٹیلی نار اے ایس اے کی خدمات کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ایک کاروباری مقابل اور ساتھی ٹیلی کام ادارے کی حیثیت سے ٹیلی نار نے تقریباً 2 دہائیوں تک سروس کا معیار بلند کرنے اور رابطوں کوفروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
اس سنگِ میل سے دونوں ادارے ایک دوسرےکی صلاحیتوں اور وسائل کی تکمیل کریں گے، اور ایک ایسا پلیٹ فارم تشکیل دیں گے، جو صارفین کی سہولت پر مرکوز سوچ، وسیع تر رسائی اور تیز رفتار جدت کو فروغ دے گا۔
مستقبل میں وجود میں آنے والی کمپنی پاکستان کی ڈیجیٹل امنگوں کی روشنی میں نیٹ ورک صلاحیتوں میں توسیع، اسپیکٹرم وسائل کی بہتر ترتیب، اور صارفین کی بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق محفوظ، مربوط اور ڈیجیٹل طور پر فعال خدمات فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوگی۔
اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر و سی ای او، پی ٹی سی ایل و یوفون فور جی حاتم بامطرف کہاکہ یہ پی ٹی سی ایل کے لیے ایک قابلِ فخر لمحہ اور پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہم صارفین کو باسہولت، بلا تعطل اور اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنے پر بھرپور توجہ دیں گے، تاکہ ریگولیٹری منظوریوں کی تکمیل کے بعد مشترکہ صلاحیتوں کے ذریعے وسیع پیمانے پر صارفین کے تجربے کو بہتر بنا سکیں۔
انہوں نے کہاکہ میں اپنے ٹیلی نار پاکستان کے ساتھیوں کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں اور انہیں یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ تبدیلی لوگوں کے احترام، صلاحیتوں کے تسلسل اور انڈسٹری کی بہترین روایات پر مؤثر عملدرآمد پر مبنی ہے۔
’ہم مل کر ایک مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ادارہ قائم کریں گے، جو اپنے صارفین کی بہتر خدمت کرنے، اپنے لوگوں کو بااختیار بنانے اور پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کو آگے بڑھانے کے قابل ہوگا۔‘
مزید پڑھیں: پی ٹی سی ایل کا ٹیلی نار پاکستان کے 100فیصد شیئرز کی خریداری کا معاہدہ
ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کے بعد پی ٹی سی ایل، یوفون فور جی اور ٹیلی نار پاکستان ایک ایسے مستقبل میں داخل ہو رہے ہیں جو جدت سے عبارت اور کاروباری اداروں اور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے سازگار ہوگا۔
’یہ اتحاد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مستحکم کرے گا، اور لاکھوں افراد کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور خدمات سے جوڑے گا۔ اب جبکہ نئی بلندیوں کی جانب ہمارے سفر کا آغاز ہوچکا ہے، ادارہ صارفین کو بے مثال تجربات فراہم کرنے اور پاکستان بھر میں ڈیجیٹائزیشن کو فروغ دینے کے غیرمتزلزل عزم کے ساتھ آگے بڑھے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظام سنبھال لیا پی ٹی سی ایل ٹیلی نار پاکستان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتظام سنبھال لیا پی ٹی سی ایل ٹیلی نار پاکستان وی نیوز ٹیلی نار پاکستان پی ٹی سی ایل پاکستان کے ٹیلی کام کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔