برفانی مورچوں میں رہ کر وطن کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے، ایل او سی پر فوجی جوانوں کا قوم کے نام پیغام
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
راولپنڈی:
لائن آف کنٹرول کے اگلے محاذوں پر تعینات پاک فوج کے جوانوں نے نئے سال کی آمد پر قوم کے نام جرأت مندانہ پیغام دیا ہے۔
پاک فوج کے بہادر جوانوں نے نئے سال کی آمد پر قوم کے نام اپنے پیغام میں غیر متزلزل عزم، قربانی اور وطن سے بے لوث محبت کا اظہار کیا ہے۔
فوج کے جوانوں کا کہنا ہے کہ شدید سردی، برفانی موسم اور دشوار گزار جغرافیہ بھی اُن کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، ہم اپنے گھروں اور اہلِ خانہ سے دور، برف میں مورچوں پر کھڑے ہو کر وطنِ عزیز کی حفاظت کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔
فوج کے جوانوں نے اپنے پیغامات میں واضح کیا ہے کہ سرحدوں پر پاک فوج کی موجودگی ہی قوم کے اطمینان اور سلامتی کی ضمانت ہے، کسی بھی دشمن کو سرحد پار سے میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاک فوج کے جوانوں نے دشمن کو بھی واضح پیغام دیا کہ معرکہ حق کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم یکجا ہو کر دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، افواجِ پاکستان کے تمام جوان شب و روز وطنِ عزیز کی خاطر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ دارایاں انتہائی جرأت مندانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فوج کے جوانوں جوانوں نے پاک فوج قوم کے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔