Islam Times:
2026-07-24@02:08:10 GMT

صومالی لینڈ کے لیے سخت وارننگ

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

صومالی لینڈ کے لیے سخت وارننگ

اسلام ٹائمز: اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے صومالی لینڈ میں صیہونی مداخلت کے خلاف پہلا قدم، بالواسطہ اور کثیرالجہتی ڈیٹرنس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ انصار اللہ یمن کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہارن آف افریقہ میں میدان جنگ کو وسعت دیے بغیر بحیرہ احمر کے سیکورٹی امور پر اسٹریٹجک دباؤ برقرار رکھا جائے۔ اسٹریٹجک فضا کو غیر محفوظ بنا کر غاصب صیہونی رژیم کی کسی بھی قسم کی موجودگی کی سیاسی اور سیکورٹی قیمت بڑھا دینا، اس کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک مستحکم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا ناممکن بنا دے گا۔ اس سطح پر پیغام واضح ہے، آبنائے باب المندب سے لے کر عدن تک، کوئی بھی جگہ غاصب صیہونی رژیم کے لیے مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کی جائے گی۔ دوسرا میدان، بیانیوں کی جنگ اور علاقائی سفارت کاری پر مشتمل ہے۔ تحریر: علی احمدی

اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے 29 دسمبر 2025ء کے دن صومالی لینڈ کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے پر مبنی متنازعہ اقدام انجام دے کر ہارن آف افریقہ میں ایک نیا سفارتی بحران جنم دے دیا ہے۔ اس اقدام ہر عالم اسلام میں بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور علیحدگی پسندی کو قانونی حیثیت دینے کی ایک خطرناک کوشش قرار دینے کے ساتھ ساتھ صومالیہ کی خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت پر زور بھی دیا ہے۔ ترکی نے بحیرہ احمر کے اسٹریٹجک راستوں کو غیر مستحکم کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے اسے علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ قرار دیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر نے بھی الگ الگ موقف میں تل ابیب کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور عالم اسلام کے اتفاق رائے کے منافی قرار دیا ہے۔
 
دوسری طرف بین الاقوامی نظام میں ابھرتی ہوئی ایک نئی طاقت کے طور پر چین نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ صومالیہ کی علاقائی سالمیت کی شدید حمایت کرتا ہے اور علیحدگی پسند عناصر کی یک طرفہ شناخت کو مسترد کرتا ہے۔ یہ نایاب اتفاق رائے ظاہر کرتا ہے کہ صومالی لینڈ کا معاملہ اب صرف ایک مقامی تنازعہ نہیں رہا بلکہ یک طرفہ پالیسیوں کے ساتھ بین الاقوامی قانونی نظام کے تصادم کا ایک مرحلہ بن گیا ہے۔ یہ ردعمل جغرافیائی سیاسی نتائج، اثر و رسوخ کے لیے مسابقت، اور توانائی کی راہداریوں، عالمی تجارت اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی تک پھیلنے والے ممکنہ بحران کے بارے میں ممالک کی گہری تشویش کی عکاسی کرتا ہے جو مستقبل قریب میں طاقت کے علاقائی توازن کو مستقل طور پر تبدیل بھی کر سکتا ہے۔
 
سیاہ براعظم میں صیہونی مداخلت
تل ابیب کی جانب سے صومالی لینڈ پر توجہ مرکوز کرنے کی وجوہات جاننے کے لیے ضروری ہے کہ صیہونی رژیم کی جانب سے اپنی تزویراتی گہرائی کی تعریف مشرقی بحیرہ روم سے اس پار تک بڑھا دینے کے عمل پر غور کیا جائے۔ ہارن آف افریقہ میں اثر و رسوخ قائم کرنا اسرائیل کو خلیج عدن سے جوڑتا ہے، ایک ایسا راستہ جو بحر ہند کو بحیرہ احمر سے ملاتا ہے اور اسے عالمی تجارت کی اہم شریانوں پر اثرانداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ جیوپولیٹیکل تبدیلی نیتن یاہو کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ بیک وقت مشرقی افریقہ، بحیرہ احمر اور نہر سویز کی کامب جانے والے سمندری راستوں میں رونما ہونے والی سیکورٹی تبدیلیوں پر انٹیلی جنس اور آپریشنل کنٹرول حاصل کر سکے۔ یاد رہے آبنائے باب المندب دنیا کی سیاسی معیشت کے حساس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔
 
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اور کنٹینر ٹریفک کا تقریباً 30 فیصد حصہ اس علاقے کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ جو طاقت بھی اس آبنائے پر موثر کنٹرول کی حامل ہو گی وہ سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور شپنگ سیکیورٹی پر دباؤ ڈال سکے گی۔ اس خطے میں صیہونی رژیم کی غیرقانونی موجودگی علاقائی طاقتوں کے درمیان روایتی توازن میں خلل ڈال سکتیی ہے اور زمین سے سمندر تک اس کی طاقت کو وسعت دے سکتی ہے۔ اس تناظر میں یمن اس حکمت عملی کا آخری نشانہ ہے۔ صنعاء سیاست کا مرکز ہے جبکہ عدن آبنائے باب المندب کے کنٹرول کی چابی ہے۔ عدن پر تنازعہ کو تل ابیب کے فیصلہ سازوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر کنٹرول اور سمندری ٹریفک کا انتظام اپنے ہاتھ میں لینے کے تنازعہ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
 
انصاراللہ یمن، صیہونی سازش کا توڑ
اسلامی مزاحمتی بلاک کی جانب سے صومالی لینڈ میں صیہونی مداخلت کے خلاف پہلا قدم، بالواسطہ اور کثیرالجہتی ڈیٹرنس پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ انصار اللہ یمن کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہارن آف افریقہ میں میدان جنگ کو وسعت دیے بغیر بحیرہ احمر کے سیکورٹی امور پر اسٹریٹجک دباؤ برقرار رکھا جائے۔ اسٹریٹجک فضا کو غیر محفوظ بنا کر غاصب صیہونی رژیم کی کسی بھی قسم کی موجودگی کی سیاسی اور سیکورٹی قیمت بڑھا دینا، اس کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک مستحکم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرنا ناممکن بنا دے گا۔ اس سطح پر پیغام واضح ہے، آبنائے باب المندب سے لے کر عدن تک، کوئی بھی جگہ غاصب صیہونی رژیم کے لیے مکمل طور پر محفوظ تصور نہیں کی جائے گی۔ دوسرا میدان، بیانیوں کی جنگ  اور علاقائی سفارت کاری پر مشتمل ہے۔
 
اسلامی مزاحمتی بلاک علاقائی ممالک کو ممکنہ علیحدگی پسندی، ہارن آف افریقہ میں عسکریت پسندی بڑھ جانے اور عالمی تجارت کو لاحق خطرات جیسے ممکنہ چیلنجز سے آگاہ کر کے غاصب صہیونی رژیم کی موجودگی کے جواز کے خلاف سیاسی اتفاق رائے پیدا کر سکتا ہے۔ انصاراللہ یمن، سعودی عرب یا قاہرہ جیسے کچھ ممالک کی جانب سے سرکاری طور پر تسلیم نہ کیے جانے کے باوجود بھی خطے کی رائے عامہ پر اثرانداز ہو کر اور اسرائیل کے مخالف حکومتوں اور عناصر کا ساتھ دے کر صومالی لینڈ کو اسرائیل کے لیے بڑا چیلنج بنا سکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں، سیاسی جواز کو کمزور کرنا سیکورٹی ڈیٹرنس کی تکمیل کر سکتا ہے۔ تیسرا راستہ صومالی لینڈ کیس کو یمن اور عدن سے جوڑنے پر مشتمل ہے۔ انصاراللہ یمن بحیرہ احمر میں فیصلہ کن کردار کا حامل ہونے کے ناطے یہ ثابت کر سکتی ہے کہ اسرائیل کی ممکنہ مداخلت مغرب کے لیے تجارتی کشتیوں کی نقل و حرکت مشکل بنا سکتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی جانب سے صومالی لینڈ ہارن آف افریقہ میں آبنائے باب المندب غاصب صیہونی رژیم صیہونی رژیم کی صومالی لینڈ کو بحیرہ احمر کے عالمی تجارت میں صیہونی کے طور پر کرتا ہے کے خلاف سکتی ہے کے لیے دیا ہے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی