کراچی:

بینک دولت پاکستان (ایس بی پی ) نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس (P-FII) متعارف کرا دیا ہے جس سے ملک میں مالی خدمات تک  رسائی، استعمال اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی شمولیت کی کیفیت کی جامع پیمائش ہو  سکتی ہے، پی۔ ایف آئی آئی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ  2024ء میں مجموعی مالی شمولیت کی سطح 58.

1 فیصد تھی۔

ایس بی پی ایکٹ، 1956ء کے  تحت  مالی شمولیت کو بہتر بنانا اسٹیٹ بینک کے اہم  مینڈیٹ اور مقاصد میں شامل ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اسٹیٹ بینک  مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی  ، یعنی این ایف آئی ایس  2024ء تا 2028ء، کو نافذ کر رہا ہے  تا کہ  ملک بھر میں مالی خدمات تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور ان کے استعمال اور معیار میں بہتری لائی جائے۔ اس حکمت عملی کے مطابق  پی۔ایف آئی آئی  کی تیاری  باخبر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی  سے متعلق اسٹیٹ بینک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

پی۔ایف آئی آئی مالی شمولیت کی سطح کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے، جو بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بینکاری، غیر بینکاری اور ادائیگی کی خدمات کی عکاسی کرنے والے69 اظہاریوں پر مبنی ہے۔ ان اظہاریوں میں مالی شعبے کے انفراسٹرکچر، مالی مصنوعات اور خدمات کے استعمال، اور مالی خدمات کے معیار سے متعلق پیمانے شامل ہیں۔ یہ اشاریہ بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر اظہاریے کی بینچ مارکنگ ایک متعین ہدفی قدر کے مقابلے میں کی جاتی ہے جو اس متوقع نتیجے کی نمائندگی کرتی ہے، جسے اسٹیٹ بینک 2030ء تک حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

مالی شمولیت کے اشاریے (Financial Inclusion Index) کی تیاری مرکزی بینکوں کا  ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کا مقصد مالی شعبے کی شمولیت، اثرانگیزی اور رسائی کا جائزہ لینا  ہے تاکہ وسیع تر آبادی کو یہ  خدمات فراہم کی جا سکیں۔

 اسٹیٹ بینک نے پی۔ایف آئی آئی (P-FII) کی تیاری کا آغاز 2023ء میں ایک تحقیقی مطالعے کے ذریعے کیا جس میں مختلف مرکزی بینکوں اور کثیرجہتی اداروں کی جانب سے ایسے اشاریے تشکیل دینے کے لیے استعمال کیے جانے والے ڈیٹا پیرامیٹرز اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔ بعد  میں پی۔ایف آئی آئی کو بہتر بنانے اور حتمی شکل دینے کے لیے مختلف ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایف آئی آئی اسٹیٹ بینک

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع