اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی مالی شمولیت کا انڈیکس متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
کراچی:
بینک دولت پاکستان (ایس بی پی ) نے پاکستان مالی شمولیت انڈیکس (P-FII) متعارف کرا دیا ہے جس سے ملک میں مالی خدمات تک رسائی، استعمال اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے مالی شمولیت کی کیفیت کی جامع پیمائش ہو سکتی ہے، پی۔ ایف آئی آئی کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024ء میں مجموعی مالی شمولیت کی سطح 58.
1 فیصد تھی۔
ایس بی پی ایکٹ، 1956ء کے تحت مالی شمولیت کو بہتر بنانا اسٹیٹ بینک کے اہم مینڈیٹ اور مقاصد میں شامل ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کی غرض سے اسٹیٹ بینک مالی شمولیت کی قومی حکمت عملی ، یعنی این ایف آئی ایس 2024ء تا 2028ء، کو نافذ کر رہا ہے تا کہ ملک بھر میں مالی خدمات تک رسائی کو بڑھایا جا سکے اور ان کے استعمال اور معیار میں بہتری لائی جائے۔ اس حکمت عملی کے مطابق پی۔ایف آئی آئی کی تیاری باخبر اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی سے متعلق اسٹیٹ بینک کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
پی۔ایف آئی آئی مالی شمولیت کی سطح کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے، جو بینکوں اور مالی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی بینکاری، غیر بینکاری اور ادائیگی کی خدمات کی عکاسی کرنے والے69 اظہاریوں پر مبنی ہے۔ ان اظہاریوں میں مالی شعبے کے انفراسٹرکچر، مالی مصنوعات اور خدمات کے استعمال، اور مالی خدمات کے معیار سے متعلق پیمانے شامل ہیں۔ یہ اشاریہ بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت ہر اظہاریے کی بینچ مارکنگ ایک متعین ہدفی قدر کے مقابلے میں کی جاتی ہے جو اس متوقع نتیجے کی نمائندگی کرتی ہے، جسے اسٹیٹ بینک 2030ء تک حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
مالی شمولیت کے اشاریے (Financial Inclusion Index) کی تیاری مرکزی بینکوں کا ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جس کا مقصد مالی شعبے کی شمولیت، اثرانگیزی اور رسائی کا جائزہ لینا ہے تاکہ وسیع تر آبادی کو یہ خدمات فراہم کی جا سکیں۔
اسٹیٹ بینک نے پی۔ایف آئی آئی (P-FII) کی تیاری کا آغاز 2023ء میں ایک تحقیقی مطالعے کے ذریعے کیا جس میں مختلف مرکزی بینکوں اور کثیرجہتی اداروں کی جانب سے ایسے اشاریے تشکیل دینے کے لیے استعمال کیے جانے والے ڈیٹا پیرامیٹرز اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔ بعد میں پی۔ایف آئی آئی کو بہتر بنانے اور حتمی شکل دینے کے لیے مختلف ملکی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع اور تفصیلی مشاورت کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ایف آئی آئی اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔