اسلام آباد:

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ  رواں مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا ہے جبکہ رواں ماہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 6.5 فیصد تک جا سکتی ہے، دسمبر میں مہنگائی 5.5 سے 6.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، سرمایہ کاری، برآمدات اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

 وزارت خزانہ نے ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لُک رپورٹ جاری کر دی ہے، وزارت خزانہ کے مطابق نومبر 2025 میں ملک میں مہنگائی کی شرح 6.

1 فیصد تھی، نومبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد تھی رپورٹ کے مطابق جولائی سے نومبر سرمایہ کاری 25.3 فیصد کمی سے 93 کروڑ ڈالر تک محدود ہے، پہلے پانچ ماہ میں برآمدات 3.2 فیصد کمی سے 12.8 ارب ڈالر رہی وزارت خزانہ کے مطابق ترسیلات زر 9.3 فیصد اضافے سے 16.14 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ، حجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق صنعتی گروتھ سے پاکستان کی معیشت کا مستقبل مثبت نظر آرہا ہے، ٹیکسٹائل، گاڑیوں، سیمنٹ اور فوڈ پروسسنگ کی صنعتوں میں بہتری ہوئی وزارت خزانہ کے مطابق موجودہ سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف میں رہنے کا امکان ہے پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہو کر 81 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہارپورٹ کے مطابق مالی نظم و ضبط سے معاشی استحکام مضبوط ہوا، بہتر گورننس اور ڈیجیٹل اصلاحات سے معاشی ترقی میں مدد ملی وزارت خزانہ کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر معیشت کو سہارا دیں گی، حکومتی اخراجات میں کنٹرول، ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے۔

 رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں نمایاں اضافہ ہواہے اور توقع ہے کہ بحالی کایہ سفرجاری رہے گا، صنعتی مسابقت میں بہتری کے لیے جاری ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے یہ عمل بہتراندازمیں آگے بڑھ رہاہے۔ بیرونی محاذ پر حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن مقررہ ہدف کی حدود میں رہنے کی توقع ہے تاہم ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافہ اور آئی ٹی و خدمات شعبہ کی برآمدات کی مستحکم کارکردگی سے بیرونی دبائو کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

 رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ مالیاتی استحکام کے تسلسل سے کلی معیشت کے استحکام کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے، جہاں حکومتی سطح پر اخراجات کے موثر انتظام، ٹیکس وصولیوں میں بہتری اورڈھانچہ جاتی اصلاحات پائیدار معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گی۔مجموعی طور پر توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کی معیشت اپنی مثبت رفتار برقرار رکھے گی جس کی محرکات صنعتی ترقی، بہتر طرز حکمرانی، ڈیجیٹائزیشن اور محتاط میکرو اکنامک انتظامات ہیں۔

ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں سمندرپارپاکستانیوں کی ترسیلات زرکاحجم 16.14 ارب ڈالر رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 14.76 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.3 فیصد زیادہ ہے،نومبرمیں سمندرپارپاکستانیوں نے 3.188 ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیاجوگزشتہ سال نومبرکے 2.915 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 9.4 فیصد زیادہ ہے،ملکی برآمدات کاحجم 12.8 ارب ڈالر اوردرآمدات کاحجم 25.6 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ،گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کاحجم 13.2 ارب ڈالر اوردرآمدات کاحجم 23 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اعدادوشمارکے مطابق حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 812ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 503ملین ڈالر فاضل تھا،مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کاحجم 927.4ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.242 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 25.3 فیصد کم ہے،19 دسمبر 2025ء کوزرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 21 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 20دسمبرکو16.4 ارب ڈالر تھا،30 دسمبر 2025ء کو ایکسچینج ریٹ 280.1 روپے تھا جوگزشتہ سال 30 دسمبر کو 278.5 روپے تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ایف بی آرکے محصولات کاحجم 4.73ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 4.29ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 10.2 فیصد زیادہ ہے،نومبر 2025ء میں ایف بی آرکے محصولات کاحجم 898.7 ارب روپے تھا جوگزشتہ سال نومبرکے 852.3 ارب روپے کے مقابلہ میں 5.4 فیصد زیادہ ہے،مالی سال کے پہلے چارماہ میں نان ٹیکس ریونیوکاحجم 3.309ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال کی اسی مدت کے 3.192ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 3.7 فیصد زیادہ ہے،مالی خسارہ کاحجم 1.323ٹریلین روپے رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 494.6 ارب روپے تھا،پرائمری بیلنس 3.544ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کاعمومی اشاریہ(سی پی آئی) 5 فیصد ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 7.9 فیصد تھا،مالی سال کے پہلے چارماہ میں بڑی صنعتوں کی پیداوارمیں اضافہ کی شرح 5.2 فیصد ریکارڈکی گئی ہے۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے،30دسمبرکوکے ایس ای 100انڈیکس 174472پوائنٹس ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 30دسمبرکے 115259پوائنٹس کے مقابلہ میں 52 فیصد زیادہ ہے،30دسمبر2025کومارکیٹ کیپٹلائزیشن کاحجم 70.28 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ سال 30دسمبرکے 52.27 ارب ڈالر کے مقابلہ میں 34.4 فیصد زیادہ ہے،نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں سالانہ بنیادوں پر29 فیصد کااضافہ ہوا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا مالی سال کی اسی مدت میں ارب ڈالر کے مقابلہ میں وزارت خزانہ کے مطابق پہلے پانچ ماہ میں سال کی اسی مدت کے مالی سال کے پہلے فیصد زیادہ ہے سرمایہ کاری میں بہتری روپے تھا توقع ہے کاحجم 1 کی شرح

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف