زرمبادلہ میں اضافہ، دس لاکھ نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ دس لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ اقتصادی گورننس اصلاحات کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کا دن صرف اصلاحاتی پروگرام کے آغاز کا نہیں غوروفکر اور عزم کی تجدید کا دن ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اقتدارسنبھالا توہمیں شدید چیلنجزکی شکارمعیشت ورثےمیں ملی،معاشی طور پر ہم مشکلات میں گھرے ہوئے تھے،معاشی اصلاحات آسان کام نہیں تھا، چیلنجز کے باجود ہم نے معیشت کو درست سمت میں ڈالا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال میں پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی، 1997 میں ہم نے معاشی پابندیوں اور عالمی تنہائی کا سامنا کیا،افراط زر تقریبا 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا،زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، افراط زر 29.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے کا کہنا تھا کہ ارب ڈالر دس لاکھ کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔