Express News:
2026-06-03@00:52:07 GMT

نیوایئر؛ کراچی ساؤتھ میں ڈبل سواری پر پابندی عائد

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

کراچی:

نئے سال کی آمد کے سلسلے میں شہر میں نوجوانوں کی جانب سے ہلڑ بازی اور ٹریفک کے نظام کو درہم برہم کرنے کے پیش نظر ڈپٹی انسپکڑ جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ساؤتھ زون کراچی کی درخواست پر ضلع جنوبی میں ڈبل سواری اور ہوائی فائرنگ پر پابندی عائد کردی گئی۔

کمشنر کراچی کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ڈی آئی جی پولیس ساؤتھ زون نے آگاہ کیا کہ نئے سال 2026 کی آمد کے موقع پر جشن کے لیے شہر کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد موٹرسائیکلوں اور کاروں میں سوار ہو کر ساحل سمندر میں جمع ہوں گے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اس طرح کے ہجوم سے ٹریفک میں خلل اور مقامی شہریوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ڈی آئی ساؤتھ زون نے دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ، فائرکریکر کا استعمال اور ڈبل سواری پر پابندی عائد کرنے کی درخواست کی تاکہ شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

کمشنر کراچی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سال نو کے موقع بعض افراد ہوائی فائرنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ناخوش گوار واقعات پیش آسکتے ہیں یا شہریوں کا جانی نقصان ہوسکتا ہے۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ شہریوں کی سلامتی اور تحفظ یقینی بنانے کے لیے کراچی ڈویژن کی مقامی حدود میں نئے سال کی آمد کے موقع دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش، ہوائی فائرنگ، فائر کریکر کے استعمال اور ڈبل سواری پر پابندی عائد کرنا ضروری ہے۔

کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے کہا کہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سال نو 2026 کی آمد کے موقع پر اس حدود میں دو روز یعنی 31 دسمبر 2025 اور یکم جنوری 2026 کو ڈبل سواری سمیت مذکورہ تمام پابندیاں مکمل طور پر عائد کردیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈبل سواری پر پابندی کا اطلاق خواتین، 12 سال سے کم عمر بچوں، بزرگوں، صحافیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رجسٹرڈ پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیز کے یونیفارم میں ملبوس اہلکاروں اور مخصوص خدمات کے حامل ملازمین پر نہیں ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈبل سواری پر پابندی پر پابندی عائد نوٹیفکیشن میں میں کہا گیا کہ ہوائی فائرنگ کی آمد کے کے موقع

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی