سال 2026ء ملک میں مفاہمت، استحکام اور قومی اعتماد کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
ایک بیان میں پی پی چیئرمین نے کہا کہ نیا سال مکالمے، مفاہمت اور زخموں کے مداوے کے لیے وقف ہونا چاہیے، کیونکہ سیاسی استحکام ہی معاشی بحالی، ترقی اور عوامی فلاح کی بنیاد ہے، قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب اختلافات کو جمہوری اداروں کے ذریعے حل کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قوم کو نئے سال کی دلی مبارکباد دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ سال 2026ء ملک میں مفاہمت، استحکام اور قومی اعتماد کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوگا۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ گزرتا ہوا سال اگرچہ آزمائشوں سے بھرا ہوا تھا،لیکن اس نے ہمارے قومی اتحاد اور حوصلے کو ایک بار پھر ثابت کیا۔ انہوں نے مئی 2025ء میں پاک بھارت جنگ کے دوران دشمن کو عبرتناک شکست دینے پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیابی نے قومی خودمختاری کا تحفظ کیا، عوام اور سرحدوں کے نگہبانوں کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مضبوط بنایا۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیا سال مکالمے، مفاہمت اور زخموں کے مداوے کے لیے وقف ہونا چاہیے، کیونکہ سیاسی استحکام ہی معاشی بحالی، ترقی اور عوامی فلاح کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومیں اسی وقت آگے بڑھتی ہیں جب اختلافات کو جمہوری اداروں کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور سماجی انصاف سے پیپلز پارٹی کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی آج بھی قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس وژن پر کاربند ہے جو عوامی اختیار، انسانی وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نیاس اعتماد کا اظہار کیا کہ اتحاد اور اجتماعی عزم کے ذریعے پاکستان ایک پرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ مستقبل کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے ملک و قوم کے لیے ایک پرامید نئے سال 2026ء کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔