راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال کے ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
راولپنڈی:
نئے سال کی آمد پر ہولی فیملی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انوکھا کارنامہ انجام دیتے ہوئے دو دن کے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، لواحقین نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے بعد بچے کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی۔
روبینہ نامی خاتون کے ہاں گزشتہ روز بچہ ہولی فیملی اسپتال میں پیدا ہوا تھا، بچے کی حالت خراب تھی ڈاکٹر وں نے عجلت میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کردیا، ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر لکھی تحریر میں واضح ہے کہ میت لواحقین کے حوالے کردی گئی ہے، ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر ڈاکٹر طیبہ صدف کی مہر اور دستخط موجود ہیں، ایم ایس نے پیڈز ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ڈاکٹر حنا ستار کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنا دی۔
https://img.
ایم ایس ہولی فیملی اسپتال ڈاکٹر اختر محمود ملک کا کہنا ہے کہ انکوائری میں جو ذمہ دار ہوگا اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی، تاہم میڈیکل کی تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں جب مریض کی سانس بہت مدہم ہو جاتی ہے اور اس کے زندہ ہونے کا یقین نہیں رہتا۔
ان کا کہنا تھا یہ بچہ Lazarus syndrome کا شکار تھا جس میں سانس مدہم ہو جاتی ہے، تاہم بچہ زندہ ہے اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہولی فیملی اسپتال
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔