جنرل قاسم سلیمانی عراقی سرزمین پر 100 بار شہید ہونے کی تمناء رکھتے تھے، ایرانی سفیر
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
وہ بغداد کی سلامتی کو تہران کی سلامتی سمجھتے تھے۔ وہ سامراء، کربلا اور نجف کے مقدس مقامات کو اپنی عزت و ناموس سمجھتے تھے۔ اسی جذبہ عشق کی وجہ سے جنرل قاسم سلیمانی نے جغرافیائی سرحدوں کو عبور کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بغداد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "محمد کاظم آل صادق" نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی، عراق اور وہاں كے مقدس مقامات کے دفاع کی راہ میں، یہ آرزو رکھتے تھے کہ وہ اس سرزمین پر 100 بار شہید ہوں۔ محمد کاظم آل صادق نے ان خیالات کا اظہار شہدائے مقاومت کی چھٹی برسی کے موقع پر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ولایت اور اہل بیت علیہم السلام کے حقیقی عاشق، شہید قاسم سلیمانی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے ایران یا لبنان میں ایک بار شہادت کی آرزو ہے، تو عراق کی اس پاک سرزمین پر 100 بار شہید ہونے کی خواہش رکھتا ہوں۔ یہ بات کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ایک حقیقت تھی۔ وہ بغداد کی سلامتی کو تہران کی سلامتی سمجھتے تھے۔ وہ سامراء، کربلا اور نجف کے مقدس مقامات کو اپنی عزت و ناموس سمجھتے تھے۔ اسی جذبہ عشق کی وجہ سے جنرل قاسم سلیمانی نے جغرافیائی سرحدوں کو عبور کیا۔
آخرکار ان کی آرزو اسی مقدس سرزمین پر پوری ہوئی، جہاں ان کا پاک خون ان کے بھائی اور ہم رکاب شہید ابو مہدی المہندس کے خون سے مل گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ آیت الله سید علی حسینی سیستانی کے تاریخی فتویٰ نے عراق کو دہشت گردوں سے نجات دلائی اور الحشد الشعبی کے قیام کا راستہ ہموار کیا۔ اسی فتویٰ کی بدولت آج الحشد الشعبی وہ قوت بن چکی ہے جو عراق کے لئے باعثِ فخر اور امتِ اسلامی کا طاقتور بازو ہے۔ ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ان شہدائے مقاومت کے خون کے احترام میں، دونوں ملکوں کی حاکمیت کو محفوظ رکھیں، الحشد الشعبی کو مضبوط کریں اور عراق سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء پر زور دیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی خودمختاری، سلامتی اور آزادی کے لئے ایران، اس ملک کی حکومت و عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قاسم سلیمانی سمجھتے تھے کی سلامتی کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔