وہ بغداد کی سلامتی کو تہران کی سلامتی سمجھتے تھے۔ وہ سامراء، کربلا اور نجف کے مقدس مقامات کو اپنی عزت و ناموس سمجھتے تھے۔ اسی جذبہ عشق کی وجہ سے جنرل قاسم سلیمانی نے جغرافیائی سرحدوں کو عبور کیا۔ اسلام ٹائمز۔ بغداد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "محمد کاظم آل صادق" نے کہا کہ شہید قاسم سلیمانی، عراق اور وہاں كے مقدس مقامات کے دفاع کی راہ میں، یہ آرزو رکھتے تھے کہ وہ اس سرزمین پر 100 بار شہید ہوں۔ محمد کاظم آل صادق نے ان خیالات کا اظہار شہدائے مقاومت کی چھٹی برسی کے موقع پر کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ ولایت اور اہل بیت علیہم السلام کے حقیقی عاشق، شہید قاسم سلیمانی ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے ایران یا لبنان میں ایک بار شہادت کی آرزو ہے، تو عراق کی اس پاک سرزمین پر 100 بار شہید ہونے کی خواہش رکھتا ہوں۔ یہ بات کوئی دعویٰ نہیں بلکہ ایک حقیقت تھی۔ وہ بغداد کی سلامتی کو تہران کی سلامتی سمجھتے تھے۔ وہ سامراء، کربلا اور نجف کے مقدس مقامات کو اپنی عزت و ناموس سمجھتے تھے۔ اسی جذبہ عشق کی وجہ سے جنرل قاسم سلیمانی نے جغرافیائی سرحدوں کو عبور کیا۔

آخرکار ان کی آرزو اسی مقدس سرزمین پر پوری ہوئی، جہاں ان کا پاک خون ان کے بھائی اور ہم رکاب شہید ابو مہدی المہندس کے خون سے مل گیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ آیت الله سید علی حسینی سیستانی کے تاریخی فتویٰ نے عراق کو دہشت گردوں سے نجات دلائی اور الحشد الشعبی کے قیام کا راستہ ہموار کیا۔ اسی فتویٰ کی بدولت آج الحشد الشعبی وہ قوت بن چکی ہے جو عراق کے لئے باعثِ فخر اور امتِ اسلامی کا طاقتور بازو ہے۔ ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ان شہدائے مقاومت کے خون کے احترام میں، دونوں ملکوں کی حاکمیت کو محفوظ رکھیں، الحشد الشعبی کو مضبوط کریں اور عراق سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء پر زور دیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق کی خودمختاری، سلامتی اور آزادی کے لئے ایران،  اس ملک کی حکومت و عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قاسم سلیمانی سمجھتے تھے کی سلامتی کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ