2026 ،پاکستان دنیا کا5واں سب سے زیادہ آبادی والا ملک
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (یو این ایف پی اے) نے کہا ہے کہ پاکستان 2026 میں 22 کروڑ 50 لاکھ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔
یو این ایف پی اے پاکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ ان حقائق کے پیشِ نظر آبادی کو بوجھ کے بجائے پائیدار اور جامع ترقی کا ایک اسٹریٹجک محرک سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سال 2026 کے تناظر میں یو این ایف پی اے نے مطالبہ کیا کہ خصوصی طور پر این ایف سی فارمولے میں قومی منصوبہ بندی اور مالیاتی فیصلوں میں آبادی کو شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی جائے۔
بیان میں کہا گیا کہ صرف آبادی کے حجم کو بنیادی پیمانہ بنانے کے بجائے ایک مستقبل نقطہ نظر اپنایا جانا چاہیے، جس کے تحت صوبوں کو صنفی مساوات، ماحولیاتی استحکام، متوازن آبادی نتائج اور صحت و تعلیم کی خدمات کے معیار میں بہتری جیسے قابلِ پیمائش اہداف کے حصول پر مراعات دی جائیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق ایسی اصلاحات سے مالیاتی مراعات کو انسانی ترقی کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے گا، جدت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا اور آبادی سے متعلق پالیسیوں کو عوام اور کمیونٹیز کے لیے عملی فوائد میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔
ادارے نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات پر واضح جوابدہی کے نظام، مقررہ ٹائم لائنز اور پائیدار ملکی مالی وسائل کے ساتھ عمل درآمد پر بھی زور دیا، جس کی بنیاد مضبوط آبادیاتی ڈیٹا اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی ہونی چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ پیش رفت کے باوجود کئی چیلنجز بدستور موجود ہیں، جن میں زچہ و بچہ کی بلند شرح اموات، خاندانی منصوبہ بندی کی نامکمل ضروریات، کم عمری کی شادیاں، صنفی بنیاد پر تشدد اور خصوصاً دور دراز علاقوں میں معیاری تولیدی صحت کی سہولیات تک غیر مساوی رسائی شامل ہیں۔
یو این ایف پی اے کے مطابق یہ مسائل شرحِ پیدائش میں سست رفتار کمی اور غیر متوازن ترقیاتی نتائج سے بھی گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یو این ایف پی اے
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔