12 روزہ جنگ میں جنرل قاسم سلیمانی کی حکمت عملی کے نتائج دیکھنے کو ملے، ریٹائرد فرانسوی فوجی افسر
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں آلن کروز کا کہنا تھا کہ میری رائے اور بہت سے ماہرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو بچانے کیلئے مداخلت کی، کیونکہ یہ رژیم ہر چیز خصوصاً میزائلوں اور دفاعی نظام کی شدید کمی کا شکار تھی۔ اسلام ٹائمز۔ فرانسوی فوج کے ریٹائرڈ افسر اور لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے سابق رکن "آلن کروز"نے خبر رساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا کہ شہید قاسم سلیمانی کی فتوحات كا سب سے پہلا مظہر ہم نے مارچ 2024ء میں بیجنگ میں دیكھا، جب ایران اور سعودی عرب نے امن معاہدے پر دستخط کئے۔ جس کے بعد انہوں نے ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے دستبرداری اختیار کرلی۔ یہ نہایت اہم واقعہ تھا جس کے لئے جنرل قاسم سلیمانی کام کر رہے تھے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ انہیں بغداد میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ شیعہ سنی یعنی تمام مسلمانوں کے اتحاد کے خیال کو آگے بڑھانے کے لئے اجلاس اور پیغامات ترتیب دے رہے تھے۔ آلن کروز نے مزید کہا کہ میرے خیال کے مطابق، 12 روزہ جنگ میں بھی ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کی حکمتِ عملی کے نتائج دیکھے، کیونکہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی فوجی ردعمل صیہونیوں کے لئے تباہ کُن ثابت ہوا۔
ریٹائرڈ فرانسوی فوجی افسر نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف، ایران کے حملوں کی درستگی و طاقت نے نہ صرف صیہونی رژیم بلکہ امریکہ و باقی دنیا کو بھی حیران کر دیا، کیونکہ وہ ذہنی طور پر اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ ایران کی بیلسٹک صلاحیت اس قدر بلند سطح تک پہنچ چکی ہے۔ میری رائے اور بہت سے ماہرین کے مطابق، "ڈونلڈ ٹرمپ" نے اسرائیل کو بچانے کے لئے مداخلت کی، کیونکہ یہ رژیم ہر چیز خصوصاً میزائلوں اور دفاعی نظام کی شدید کمی کا شکار تھی، ان 12 دنوں میں اربوں ڈالر خرچ کر چکی تھی اور تباہی کے دہانے پر تھی۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران سے جنگ روکنے کے لئے مداخلت نہ کرتے، تو ممکن تھا کہ اسرائیل مکمل طور پر نابود ہو جاتا۔ جو نہایت اہم بات ہے۔ واضح رہے کہ آلن کروز کا یہ انٹرویو شہدائے مقاومت، جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس کی چھٹی برسی کے موقع پر لیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنرل قاسم سلیمانی کے لئے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔