این اے 130؛ نواز شریف کی کامیابی درست قرار، یاسمین راشد کی درخواست خارج
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
الیکشن کمیشن نے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹی فکیشن درست قرار دیتے ہوئے یاسمین راشد کی درخواست خارج کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا گیا تھا، جس پر الیکشن ٹریبونل کے جج رانا زاہد محمود نے فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواست تکنیکی بنیادوں پر خارج کرتے ہوئے این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی کا نوٹی فکیشن درست قرار دے دیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 پر نواز شریف نے ایک لاکھ 71 ہزار 24 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی جب کہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترنے والی یاسمین راشد نے ایک لاکھ 15 ہزار 43 ووٹ لیے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے نواز شریف کی کامیابی کو چیلنج کیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل نواز شریف کی کامیابی یاسمین راشد راشد کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔