بڑھتی طلاقیں، خواتین کی خودکشیاں اور کمزور قانون
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
کراچی کی ایک ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے ایک فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ خودکشی کا موجودہ قانون کمزور اور خودکشی پر اکسانے والوں کو سزا دینے سے قاصر ہے اور خاتون کی خودکشی کا، اس کا شوہر صرف اخلاقی طور ذمے دار ہے مگر اسے قانونی طور سزا نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ ملک میں خودکشی جرم نہیں، البتہ اقدام خودکشی جرم ہے مگر اس پر بھی سزا شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے۔
فاضل جج نے بھارتی قانون 306 اور 498 اے کا حوالہ دیتے ہوئے فیصلے میں ایک خاتون جس نے شادی کے صرف سات ماہ بعد اپنے سسرالیوں کے رویے کے بعد خودکشی کر لی تھی جس پر عدالت نے خاتون پر گھریلو تشدد ثابت نہ ہونے پر اس کے شوہر اور دو دیوروں کو اس لیے بری کر دیا کہ خودکشی کمرے کے اندر پنکھے سے لٹک کر کی گئی تھی اور خودکشی کرنے والی خاتون نے اپنے خط میں خود پر گھریلو تشدد کا ذکر کیا تھا اور اس کے شوہر نے اپنی بیوی پر سسرال والوں کے مظالم روکنے میں ناکامی دکھائی تھی جس سے مجبور ہو کر خاتون نے خودکشی کرلی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سندھ ڈومیسٹک وائلنس ایکٹ ناکافی اور اس میں سزا بہت کم ہے جس کی وجہ سے خواتین مظالم برداشت کرتی ہیں یا مجبوراً خودکشی کر لیتی ہیں جس میں کچھ بچ جاتی اور باقی جان دے دیتی ہیں اور قانون کی خامی کے باعث ملزمان کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
اس کیس میں پراسکیوٹر کا موقف تھا کہ مرحومہ کے شوہرکا رویہ غیر حفاظتی اور غفلت پر مبنی تھا مگر قانونی خامی کے باعث ملزموں کو سزا نہیں دی گئی اور تینوں بری ہو گئے۔
مٹھی میں ایک دیہی 45 سالہ خاتون نے اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے نشئی شوہر کے خلاف احتجاج کیا کہ اس نے نشے کے لیے جہیز میں ملے مویشی فروخت کر دیے اور رقم نشے میں اڑا دی اور مزید رقم کے لیے بیوی پر تشدد شروع کر دیا جس پر خاتون نے خلع کے لیے عدالت میں درخواست دی اور احتجاج کیا کہ اس کا جہیز واپس کرایا جائے۔
ملک بھر اور خاص کر سندھ میں دیہی خواتین کی خود کشیوں اور احتجاج کی خبریں میڈیا میں آنا معمول ہے اور شہروں میں بھی طلاق اور خلع کے معاملات میں بہت تیزی آئی ہوئی ہے اورکراچی و لاہور کی عدالتوں میں خلع کے ہزاروں مقدمات زیر سماعت ہیں اور بعض خواتین اپنے شوہروں کے ہاتھوں اس لیے بھی قتل ہو رہی ہیں کہ انھوں نے خلع کے لیے عدالت سے کیوں رجوع کیا۔
ایسے بھی قتل ہوئے ہیں کہ خلع کے بعد متعلقہ خاتون نے دوسری شادی کر لی جس پر مشتعل سابق شوہر نے اپنی سابقہ بیوی کو نہیں بخشا اور اسے قتل کر دیا۔
طلاق شوہر کا مذہبی اور خلع لینا،خاتون کا قانونی حق ہے مگر بعض حلقے عدالتی خلع کو بھی متنازع بنائے ہوئے ہیں کہ خلع لینے والی خاتون اب بھی اس کی بیوی ہے اور وہ شوہر کی طلاق کے بعد ہی دوسری شادی کر سکتی ہے۔
ملک بھر کے پس ماندہ اور دیہی علاقوں میں خواتین پر شوہروں اور گھریلو تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے جس کی ایک وجہ بے روزگاری، مہنگائی اور نشہ اہم ہیں جب کہ اس دو طرفہ تشدد سے متوسط طبقے اور پوش علاقوں کی خواتین بھی محفوظ نہیں جنھیں مالی مشکلات کا سامنا تو نہیں مگر عدم برداشت اور زبان درازی کا عنصر بھی شامل ہے اور شوہروں سے معمولی جھگڑوں کے بعد گھر چھوڑ کر میکے چلے جانے اور کسی طرف سے پیش رفت نہ ہونے کے بعد خلع، طلاق اور خودکشیوں کو آسان حل سمجھ لیا گیا ہے۔
خواتین جھگڑ کر اپنے میکے تو چلی جاتی ہیں مگر انھیں اب میکے میں بھی وہ ماحول میسر نہیں جو انھیں شادی سے پہلے حاصل تھا۔ جہاں اب انھیں بھائی سے زیادہ بھابھیوں کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔
ماں باپ تو اولاد کو برداشت کر لیتے ہیں مگر بچے ساتھ لے کر جانے والی خواتین بھی مہنگائی اور نفسا نفسی کے دور میں بوجھ تصور ہوتی ہیں اور وہاں بھی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں اور شوہر بھی معمولی تنازع کو انا کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں اور کچھ بیوی بچوں کی غیر موجودگی کو اخراجات میں بچت سمجھ کر اپنا گھریلو سکون برباد کیے رکھتے ہیں اور اپنی بیوی بچوں کا بوجھ اپنے سسرالیوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں جو غلط ہے مگر غیر قانونی نہیں۔
شادی کے بعد بیوی بچوں کی ذمے داری شرعی طور پر شوہر کا فرض ہے جو اپنے فرض کو نہیں نبھاتے جس سے تنازعہ شدید اور مستقل علیحدگی کی وجہ بن جاتا ہے جس میں بیوی سے زیادہ شوہر ذمے دار ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق شادی شدہ خواتین سسرالیوں کے مظالم برداشت کرتی رہتی ہیں اور شوہر سے شکایت پر شوہروں کی بے بسی، مجبوری، بیوی کی حمایت جھگڑے بڑھا دیتی ہے یا شوہر بھی بیوی کا جائز ساتھ دینے کے بجائے الٹا اپنے گھر والوں کی ناراضگی نہیں چاہتے اور پھر بیوی سسرال کے بعد شوہر کے مظالم اور تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔
جس کے لیے قانون تو بنا دیے گئے مگر حکومتی حلقوں نے یہ نہیں سوچا کہ اس طرح بیوی کی شکایت مزید تلخی بڑھا دیتی ہے اور خواتین کسی حد تک سسرال کے ساتھ شوہر کا ظلم برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ انھیں اپنے بچوں کے مستقبل اور گھر بچانے کی بھی فکر ہوتی ہے مگر صرف دانشمند خواتین ہی ایسا سوچتی ہیں۔
بیویوں سے جھگڑوں اور گھریلو تنازعات پر شادی شدہ نوجوانوں میں بھی خودکشیوں اور تشدد کے معاملات اب تشویش ناک ہوگئے ہیں۔
اگر کہیں بیوی گھریلو تشدد اور شوہروں سے شکایات پر خودکشی کر رہی ہے تو وہاں بیوی کے رویوں کی وجہ سے شوہر بھی خودکشی کر رہے ہیں اور بیوی کی شوہر کے ساتھ نہ جانے کی ضد میں شوہر بھی مشتعل ہو کر اپنی بیوی اور اس کی حمایت کرنے والے سسرالیوں کو بھی قتل کرکے فرار ہو رہے ہیں جس کی ذمے داری ضدی اور ہٹ دھرم بیویوں پر عائد ہوتی ہے جو شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر کے جھگڑا بڑھاتی ہیں اور اس کے میکے والے بھی اپنی بیٹی کو سمجھانے کے بجائے اس کے شوہر پر ہی الزامات لگا کر معاملہ بگاڑ دیتے ہیں اور بیوی کی حمایت کرکے شوہر کو ہی مطمئن کرتے ہیں۔
میاں بیوی کے جھگڑے شادی کے سالوں بعد اور بچوں کے بعد تو ہوتے ہی تھے اور دونوں یا ان کے بڑے مداخلت کرکے میاں بیوی میں صلح کرا دیتے تھے مگر اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ نئے شادی شدہ نوجوانوں میں بھی شادی کے بعد جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں۔
کورنگی کراسنگ میں اہلیہ ناراض ہو کر شادی کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد میکے چلی گئی جس کو منانے کے لیے شوہر نے فون کیا تو تلخی مزید بڑھ گئی اور مایوس ہو کر شوہر نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔
شوہر کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کرنے والی بیوی اگر معمولی بات کو نہ بڑھاتی تو خود بھی جوانی میں بیوہ نہ ہوتی اور ناراضگی ختم کرکے اپنے شوہر کو بچا سکتی تھی۔
موجودہ مہنگائی و بے روزگاری کے شکار جوڑوں میں بھی برداشت ختم ہو رہی ہے اور دونوں ایک دوسرے کی مجبوریاں نہیں سمجھتے اور اپنا گھر بگاڑ لیتے ہیں۔
شوہر کو حصول روزگار کے لیے جن حالات کا سامنا رہتا ہے یہ بیوی نہیں سمجھتی اور مالی تنگی کی شکار بیوی کی مشکلات شوہر نہیں سمجھتا اور اس کا غصہ بیوی پر اور بیوی کا بچوں یا جوائنٹ فیملی کے افراد پر نکلتا ہے جس پر شوہر بیوی کو تشدد کا نشانہ بناتا ہے اور شوہروں کے مظالم اور تشدد کا شکار خواتین انتہائی مجبور ہو کر تھانوں یا میڈیا والوں کے پاس جا کر شکایات یا احتجاج کرتی ہیں جس سے جھگڑا مزید بڑھ جاتا ہے اور نوبت علیحدگی تک پہنچ جاتی ہے۔
بیویاں گھریلو تشدد تو سہہ لیتی ہیں اور انھیں شوہر کی حمایت ملتی ہے نہ تحفظ۔ تھانوں میں شکایات پر اگر خواتین کو تشدد سے تحفظ دینے والا قانون حرکت میں تو آتا ہے مگر فیملی کورٹس میں میاں بیوی کے جھگڑے نمٹانے یا صلح کرانے کے بجائے اپنے مالی مفاد کے لیے بڑھائے جاتے ہیں۔
خواتین کے تحفظ کا قانون اتنا کمزور ہے کہ جس سے خواتین کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے اس لیے خواتین عدم برداشت پر مجبور ہو کر خودکشی کر لیتی ہیں یا اپنا گھر بگاڑ لیتی یا صبر کر لیتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گھریلو تشدد لیتے ہیں شوہر بھی کی حمایت کے بجائے خاتون نے اور شوہر مجبور ہو کے مظالم لیتی ہیں تشدد کا شوہر نے ہیں اور بیوی کی میں بھی پر شوہر کے شوہر شوہر کے شادی کے شوہر کو اور اس کے بعد ہے مگر کے لیے خلع کے ہے اور
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی