دریشم 3 سے متعلق بڑی خبر؛ مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
فلم دریشم کے سیکوئل 2 کے بعد اب تیسرے حصے کی ریلیز کے لیے مداح بڑی بے چینی اور بے تابی سے منتظر ہیں۔
دریشم کی پُراسرار کہانی اور آخری لمحے تک فلم بینوں کر جکڑے رہنے والے سسپنس کے ساتھ دریشم 3 کی شوٹنگ کا رکا ہوا شیڈول اب دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔
دریشم 3 کی شوٹنگ اب ممبئی سے گوا منتقل کی جا رہی ہے جہاں فلم کی کاسٹ 8 جنوری سے فروری کے آخر شوٹنگ میں مصروف رہے گی۔
گوا میں ہونے والے اس شیڈول میں فلم کی مکمل کاسٹ شریک ہوگی جن میں اجے دیوگن، تبو، شریا سرن اور راجت کپور شامل ہیں۔
اس مرحلے کے ساتھ ہی فلم کی کہانی ایک نئے اور سنسنی خیز موڑ میں داخل ہو رہی ہے خاص طور پر اس لیے کہ اس بار معروف اداکار جیدیپ اہلاوت فلم کا حصہ بن چکے ہیں۔
اپنی گہری اداکاری اور مضبوط اسکرین پریزنس کے لیے مشہور جیدیپ اہلاوت کی شمولیت سے ’دریشم‘ کی دنیا میں ایک نیا اور غیر متوقع رنگ شامل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
یہ تمام اداکار ایک بار پھر اس فیملی تھرلر کو اپنی جان دار اداکاری سے نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے تیار ہیں۔
دریشم 3 میں ایک بار پھر یہی سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے کہ کیا وجے سالگاؤںکر ایک مرتبہ پھر قانون اور نظام کو چکما دینے میں کامیاب ہوگا یا اس بار ماضی کے راز اس کے لیے ناقابلِ تصور نتائج لے کر آئیں گے؟
ان سوالوں کے جواب شائقین کو دریشم ڈے پر ملیں گے جو ممکنہ طور پر 2 اکتوبر2026 ہوگا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔