افغانستان: طالبان حکام نے موسیقی آلات ضبط کرکے نذرآتش کردیے
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
افغانستان کے صوبے ننگرہار میں طالبان نے غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف آپریشن کے دوران موسیقی کے آلات ضبط کر کے انھیں جلادیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ بات ننگرہار کے گورنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت کے اہلکاروں نے کی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جلال آباد شہر میں کارروائی کرتے ہوئے 86 موسیقی کے آلات ضبط کیے گئے اور پھر ان آلات کو ایک مشترکہ کمیٹی کی موجودگی میں جلادیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات معاشرے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام اور مذہبی اصولوں کی پاسداری کے لیے کیے جا رہے ہیں جو آئندہ بھی جاری رہیں گے۔
طالبان حکام کا کہنا ہے کہ موسیقی اور اس سے متعلقہ دیگر سرگرمیاں نوجوانوں اور معاشرے کو گمراہ کر سکتی ہیں اس لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں۔
دریں اثنا شمال مشرقی صوبے تخار میں بھی طالبان نے ایک نجی تقریب میں موسیقی بجانے کے الزام میں کم از کم 25 افراد کو حراست میں لے لیا۔
طالبان حکام نے بتایا کہ یہ گرفتاریاں مذہبی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں کی گئیں۔ اسلام اور افغان ثقافت میں موسیقی کی گنجائش نہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد سے ہی طالبان نے ملک میں موسیقی پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات سمیت سماجی تقریبات، شادیوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر موسیقی پر مکمل پابندی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ افغانستان سے متعدد گلوکار، موسیقار اور آلات موسیقی بجانے والے اپنی جانوں کے تحفظ اور روزگار کے لیے بیرون ملک منتقل ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔