حکومت کا 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
اسلام آباد:
عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایف ایم ) کی جانب سے گورننس کی خامیوں اور کرپشن کی نشاندہی کے بعد حکومت نے 142 نکاتی گورننس امپورومنٹ ایکشن پلان کا اعلان کر دیا۔
یہ ایکشن پلان وزیراعظم شہباز شریف کے اکنامک گورننس اصلاحات کا حصہ ہے، جس میں کریشن سے قومی خطرات کی تشخیص اور نیب سمیت اہم اداروں میں آئین کے مطابق تقرریاں شامل ہیں تاکہ عوام میں ان کی ساکھ بہتر بنائی جا سکے۔
ایجنڈے کی لانچنگ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اصلاحات کے اس منصوبے میں عالمی اداروں کی سفارشات کا شامل کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے نے کہا کہ ان کے گورننس پلان کے تحت 59 ترجیحی اقدامات اور 83 تکمیلی اقدامات ہیں۔ اس سے ان مطلوبہ اقدامات کی کل تعداد 142 ہو جاتی ہے جنہیں اگلے تین سالوں میں لاگو کیا جانا ہے۔
پاکستان کے عوام نے گزشتہ دو سالوں کے دوران بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ معاشی بہتری کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں اور مشکل فیصلوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان نے بہترین معاشی ترقی کی ہے، غیر متزلزل عزم کے ساتھ چیلنجز کا مقابلہ کیا گیا اور ملک کو درست سمت میں گامزن کر دیا گیا۔
اگر یہی رفتار برقرار رہی تو کامیابی ہمارا مقدر ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالتے وقت معیشت شدید چیلنجز کا شکار تھی، افراطِ زر تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکا تھا اور زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے تھے، تاہم مشکل فیصلے کیے گئے اور معیشت کو دوبارہ درست سمت میں ڈال دیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ گورننس پلان تین بنیادی اسٹریمز پر مبنی ہے جو کہ ترقی پر مبنی مالیاتی اور عوامی سرمایہ کاری کی حکمرانی، مارکیٹ کے اعتماد کو بڑھانا اور ضابطوں کو آسان بنانا اور قانونی عمل میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔
وزارت خزانہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرے گی جبکہ یوکے ڈیولپمنٹ آفس کے تکنیکی ترقی کے لیے کام کرے گی۔
وزارت خزانہ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ جہاں متعلقہ ہو، آئی ایم ایف توسیعی فنڈ سہولت کے ساتھ سیدھ (منصوبہ) کو آئی ایم ایف کی شرکت کے ذریعے پلان پر عمل درآمد کے لیے ان مکالموں میں تقویت دی جائے گی، حتمی رپورٹ مارچ 2027 میں پیش کی جائے گی۔
رپورٹ کا مقصد خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی پہلی سالانہ رپورٹ تیار کرکے اور اسے عام کرکے اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے حوالے سے شفافیت کو بڑھانا ہے، جس میں ان تمام سرمایہ کاری کے بارے میں معلومات شامل ہیں جن میں اس نے سہولت فراہم کی ہے، بشمول مراعات کی تفصیلی دلیل کے ساتھ فراہم کی گئی رعایتیں، اور قومی حکومت کی تخمینہ قیمت بھی شامل ہے۔
بدعنوانی پر تشخیص اور تین ماہ کے اندر یہ نیشنل اینٹی کرپشن ٹاسک فورس تشکیل دے گی۔ حکومت جون 2027 تک بدعنوانی کے اعلیٰ خطرات کے ساتھ سرفہرست 10 ایجنسیوں کی بھی نشاندہی کرے گی۔
شناخت شدہ 10 سب سے زیادہ خطرے والی ایجنسیوں کی سالانہ رپورٹس شائع کرے گی اور خطرات میں نمایاں کمی کے بارے میں رپورٹ کرے گی۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں نیب کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ انسداد بدعنوانی کے نگران ادارے نے گزشتہ دو سالوں میں صرف 5.
نئے ایکشن پلان کے مطابق جون 2026 تک، حکومت ابہام دور کرنے کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) کا قانون سازی کا جائزہ لے گی۔
یہ ترمیم شدہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کو بھی حتمی شکل دے گا اور پارلیمنٹ میں نظرثانی کے لیے پیش کرے گا۔ جون 2027 تک ان ترامیم کو مطلع کر دیا جائے گا۔
ڈیڑھ سال کے اندر پاکستان AMLA کے حوالے سے تربیتی منصوبوں پر عمل درآمد کے ذریعے ججوں کی صلاحیت بھی بڑھائے گا۔ جون 2027 تک پاکستان اقتصادی تنازعات پر سفارشات کے ساتھ سالانہ کارکردگی رپورٹ شائع کرے گا۔
ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی، دیانتداری اور کارکردگی کے کلچر کو بڑھانے کے لیے، حکومت اگلے سال جون تک متعدد ایگزیکٹو کمیٹیاں قائم کرے گی اور اس کے بعد دو سال کے عرصے کے لیے منصوبے تیار کرے گی اور ان پر عمل درآمد کرے گی تاکہ حکومتی افسران کی استعداد کار میں اضافہ ہو اور ٹیکس کے نفاذ کے لیے وقت کا تعین کیا جا سکے۔
دوسری جانب وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی معیشت نے حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری کا مظاہرہ کیا ہے اور اہم معاشی اشاریے استحکام اور بحالی کی عکاسی کر رہے ہیں گذشتہ مالی سال 204-25 میں مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 3.1 فیصد رہی جبکہ رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 3.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اسی طرح مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی 4.5 فیصد رہی جبکہ سیلابی اثرات کے باوجود مالی سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ میں مہنگائی کی شرح تقریباً 5 فیصد تک محدود رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ایکشن پلان نے کہا کہ مالی سال کے ساتھ کرے گی کے لیے
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز