ڈبل ڈیکر بس کا روٹ، ٹکٹ اور مسافروں کیلئے سہولیات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں متعارف کروائی گئی ڈبل ڈیکر بس کے روٹ، ٹکٹ اور مسافروں کے لیے سہولیات سمیت دیگر تفصیلات سامنے آ گئیں۔شہر قائد میں بدھ سے ڈبل ڈیکر بس کا افتتاح کردیا گیا ہے، جسے فی الحال آزمائشی طور پر چلایا گیا ہے، تاہم اسے بعد میں توسیع دیتے ہوئے سندھ حکومت نے شہر بھر میں چلانے کا اعلان کیا ہے۔پیپلز بس سروس کے آپریشن منیجر عبدالشکور نے بتایا کہ سندھ حکومت کے تحت ڈبل ڈیکر بس سروسز کا آغاز ہوگیا ہے، جس کی ابتدائی طور پر 5 بسیں چلائی جائیں گی۔انہوں نے بتایا کہ اس بس کا روٹ ملیر سے فوارہ چوک شاہراہ فیصل تک ہوگا۔ بس میں 120مسافروں کے لیے نشستیں ہیں جب کہ خواتین کا حصہ الگ ہے۔بس کی اوپری چھت کو کھولنے اور بند کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔چھت کھول کر مسافر موسم سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔علاوہ ازیں بس میں حفاظت کے لیے سی ٹی وی کیمرے نصب ہیں۔آگ لگنے کی صورت میں اس کو بجھانے کے آلات بھی موجود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بسیں مکمل طور پر ایئرکنڈیشنڈ ہیں تاکہ گرمی کی شدت سے محفوظ رہا جاسکے ۔ڈبل ڈیکر بسوں کا کم ازکم کرایہ 80 اور زیادہ سے زیادہ 120 روپے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈبل ڈیکر بس
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔