Islam Times:
2026-06-02@21:49:07 GMT

کراچی کے عوام کے لئے 65 سال بعد ایک بار پھر ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز کر دیا گیا

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے بتایا کہ آج ڈبل ڈیکر بسوں کی تجرباتی سروس شروع کی گئی ہے اور کل سے عوام باضابطہ طور پر ان بسوں میں سفر کر سکیں گے، وزیر اعلی سندھ کی ہدایت پر حکومت کا ہدف ہے کہ 2026ء میں کراچی کی زیادہ سے زیادہ سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ کراچی کے عوام کے لئے 65 سال بعد ایک بار پھر ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ دسمبر 2025ء میں ڈبل ڈیکر بسیں کراچی کی سڑکوں پر ہوں گی، اور آج 31 دسمبر کو یہ وعدہ پورا ہوگیا ہے۔ انہوں نے پورے پاکستان کو نئے سال کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ نئے سال میں ٹرانسپورٹ کی زیادہ سے زیادہ سہولیات سندھ بھر کے عوام کو فراہم کی جائیں، کراچی سے اس منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج ڈبل ڈیکر بسوں کی تجرباتی سروس شروع کی گئی ہے اور کل سے عوام باضابطہ طور پر ان بسوں میں سفر کر سکیں گے، وزیر اعلی سندھ کی ہدایت پر حکومت کا ہدف ہے کہ 2026ء میں کراچی کی زیادہ سے زیادہ سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلائی جائیں۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ای وی بسوں کے نئے روٹس آئندہ ہفتے کراچی سمیت سندھ بھر میں شروع کئے جا رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی ہدایات کے مطابق ٹرانسپورٹ کو عوام کی بنیادی ضرورت سمجھتے ہوئے ایسے منصوبے متعارف کرائے جا رہے ہیں جن سے عام آدمی کو حقیقی فائدہ پہنچے، ایئر کنڈیشنڈ بسیں، کم کرایہ والی سروسز اور ہر مسافر کے لئے کرائے میں سبسڈی فراہم کرنے کا مقصد یہی ہے کہ عوام کو سہولت دی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پیپلز بس سروس کے ذریعے روزانہ سوا لاکھ افراد سفر کر رہے ہیں جبکہ اورنج لائن اور گرین لائن بی آر ٹی سے تقریبا 75 ہزار مسافر مستفید ہو رہے ہیں، ان سروسز کو آپس میں منسلک کرنے سے روزانہ ایک لاکھ تک افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ مختلف روٹس پر روزانہ کی بنیاد پر سہولیات میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور حکومت کا ہدف ہے کہ سندھ کے ہر ضلع اور ہر بڑی سڑک پر بس سروس متعارف کرائی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی کے ساتھ مل کر کراچی کے لئے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، سندھ کابینہ نے کراچی کے صنعتی علاقوں کی سڑکوں کے لئے 9 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے، شاہراہ بھٹو، لنک روڈ، ریڈ لائن بی آر ٹی، یلو لائن بی آر ٹی سمیت کئی میگا منصوبے مارچ 2026ء تک مکمل ہونے جا رہے ہیں، سڑکوں کی بہتری ایک بڑا چیلنج ہے، تاہم وزیر اعلی سندھ کی خصوصی توجہ سے اس پر تیزی سے کام جاری ہے۔ تقریب میں ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد اور سندھ حکومت کے ترجمان مصطفی عبداللہ بلوچ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایم ڈی ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو، پیپلز بس سروس کے سی ای او صہیب شفیق، آپریشنل منیجر عبدالشکور اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن ڈبل ڈیکر بسوں ڈبل ڈیکر بس نے کہا کہ کراچی کے انہوں نے رہے ہیں سندھ کی سندھ کے کے لئے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے