Jang News:
2026-06-03@00:28:24 GMT

جاوید اوڈھو نے آئی جی سندھ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا

اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT

جاوید اوڈھو نے آئی جی سندھ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا

فوٹوز/ نمائندہ جنگ 

پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 22 کے افسر غلام نبی میمن انسپکٹر جنرل پولیس سندھ کے عہدے سے آج ریٹائر ہوگئے، جاوید اوڈھو نے آئی جی سندھ کے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔

نوٹیفکیشن کے اجراء تک جاوید اوڈھو ایڈیشنل آئی جی کراچی بھی رہیں گے۔

اللّٰہ بخش عرف جاوید اختر اوڈھو نے 11 جولائی 1998 کو سندھ پولیس جوائن کی، جاوید اختر اوڈھو کی پہلی پوسٹنگ ڈویژنل پولیس آفیسر لاڑکانہ تعینات تھی۔

جاوید اختر اوڈھو ڈی پی او گھوٹکی، بدین، داد، جام شورو بھی تعینات رہے، ایس پی اسپیشل برانچ کے بعد ٹھٹھہ، مٹیاری اور حیدرآباد بھی رہے، وہ  ڈی آئی جی ویسٹ کراچی، اسپیشل برانچ سکھر، آر آر ایف بھی رہے ہیں۔

انہوں نے ڈی آئی جی لاڑکانہ کراچی ایڈمن میرپور خاص ڈی آئی جی فنانس بھی خدمات سر انجام دیں، جاوید اوڈھو سال 2019 میں بلوچستان میں بھی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، اسپیشل برانچ اور انویسٹی گیشن سندھ بھی رہے، جاوید اوڈھو سال 2022 میں کراچی پولیس چیف تعینات کیے گئے، دوسرے دور میں جولائی 2024 سے اب تک ایڈیشنل کراچی خدمات دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: جاوید اوڈھو

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود