فیصل آباد روڈ کلی فقیر کے قریب المناک ٹریفک حادثہ، جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جھنگ کے فیصل آباد روڈ پر کلی فقیر کے قریب پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 14 ہو گئی ہے، جس سے علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
یہ افسوسناک حادثہ وٹرنری یونیورسٹی کی بس اور ایک ہائی ایس وین کے درمیان پیش آیا، جسے ابتدائی طور پر ڈرائیوروں کی مبینہ غفلت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تصادم اس قدر شدید تھا کہ دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جھنگ کیپٹن (ر) بلال افتخار کیانی اور ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ریسکیو اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی اور متعلقہ اداروں کو زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
پولیس حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور ایک کمسن بچہ شامل ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیمیں مسلسل موقع پر موجود رہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں مکمل ہونے تک علاقے میں ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔ واقعے نے ایک بار پھر سڑکوں پر ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور محتاط ڈرائیونگ کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
وزیر اعلیٰ نے انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ نے زرداری ہاؤس اسلام آباد میں ملاقات کی اور انہیں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف سے ہونے والی ملاقات اور گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے حوالے سے اسمبلی قرارداد سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ملاقات میں جی بی میں حکومت سازی، خطے کے مسائل اور پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔