سالِ نو ‘شہر قائد پھرہلٹر بازی ، ہوائی فائرنگ اور ون ویلنگ کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( رپورٹ \محمد علی فاورق )نئے سال کا آغاز ہوتے ہی شہر قائد میں ایک بار پھر وہی مناظر دیکھنے میں آئے جو گزشتہ کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ رات بارہ بجتے ہی مختلف علاقوں میں منچلے نوجوان گھروں سے نکل آئے، سڑکوں پر ون ویلنگ، موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر نکال کر ہلڑبازی، تیز رفتاری اور غیر ذمہ دارانہ رویے نے شہری زندگی کو مفلوج کر دیا۔شہر کے متعدد علاقوں میں چوراہوں اور شاہراہوں پر نوجوان گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ملی نغمے چلا کر رقص کرتے نظر آئے، جس کے باعث شدید ٹریفک جام کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پولیس کی موجودگی کے باوجود کئی مقامات پر گاڑیاں سڑکوں کے درمیان روک کر جشن منایا جاتا رہا، جبکہ ایمبولینس اور ہنگامی سروسز کو گزرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود مختلف علاقوں سے ہوائی فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق شہر کے وسطی اور ملحقہ علاقوں میں وقفے وقفے سے فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئیں، جبکہ آئی آئی چندریگر روڈ پر آتشبازی کے مناظر بھی دیکھے گئے، جو ماضی کی یاد دلاتے رہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق ہر سال یکم جنوری کو فائرنگ سے زخمی ہونے کے درجنوں کیسز اسپتالوں میں رپورٹ ہوتے ہیں، تاہم اس کے باوجود اس خطرناک روایت کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق رواں سال بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں خواتین سمیت متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں،، جبکہ بعض واقعات میں قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ بعض علاقوں میں خوف و ہراس کے باعث شہری گھروں میں محصور رہے، جبکہ والدین بچوں کو سڑکوں پر نکلنے سے روکنے پر مجبور دکھائی دیے۔سیکیورٹی انتظامات کے دعووں کے باوجود شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ہر سال پیشگی وارننگ، اعلانات اور کریک ڈاؤن کے اعلانات کے باوجود عملی طور پر صورتحال کیوں مختلف نظر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قانون پر مؤثر اور بلاامتیاز عملدرآمد، مستقل نگرانی اور سخت سزاؤں کے بغیر ہوائی فائرنگ، ون ویلنگ اور ہلڑبازی جیسے رجحانات پر قابو پانا ممکن نہیں۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سالِ نو اور دیگر مواقع پر صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ خوشیوں کے لمحات کسی اور کے لیے ماتم میں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہوائی فائرنگ علاقوں میں کے باوجود کے مطابق
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔