Juraat:
2026-07-24@03:36:19 GMT

بھارتی مسلمان غیر محفوظ

اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT

بھارتی مسلمان غیر محفوظ

ریاض احمدچودھری

غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں کانگریس کے رہنما غلام احمد میر نے مقبوضہ علاقے اور بھارت بھر میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانیوالے امتیازی سلوک پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومتیں آئینی طور پر اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی پابند ہیں۔ آئینی طور پر ہر حکومت کا فرض ہے کہ وہ اپنے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنائے، اپنی سرحدوں اور اقلیتوں کاتحفظ کرے۔ اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت آئین میں دی گئی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا عالمی سطح پر تحفظ ہونا چاہیے۔ یہ حقوق وراثت میں انہیں ملے ہیں اور آئین میں اس کی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔واضح رہے کہ فاروق عبداللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بھارت میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی پسماندگی پرسخت تشویش کا اظہار کیا تھااور کہاتھا کہ بھارت میں مسلمان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ بھارت کے24کروڑ مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی انہیں سمندر میں پھینکا جا سکتا ہے۔ بھارت کا آئین مذہب کی بنیاد پر مساوات اور عدم امتیاز کی ضمانت دیتا ہے۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے پالیسی فیصلوں کا ایک سلسلہ مقامی آبادی بالخصوص مسلم اکثریت کو پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ناقدین ان اقدامات کو نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں جن کا مقصد علاقے میں انصاف ، وقار اور ثقافتی شناخت کو مجروح کرنا ہے۔ریزرویشن پالیسیوں میں حالیہ ترامیم بھی تنازعات کا باعث بن گئی ہیں۔ان تبدیلیوں سے سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ کی نشستیں تقریبا 60% سے کم کر کے 40% کر دی گئی ہیں جبکہ اہلیت کا دہرا معیار متعارف کرایا گیا ہے جس سے مقامی امیدواروں کو مزید نقصان پہنچا ہے۔اوپن میرٹ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے انتظامیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریزرویشن رپورٹ کو لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری سے پہلے جاری کیا جائے۔انہوں نے اسے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے بغیر کیا گیا فیصلہ قرار دیا۔میڈیکل انٹرنیز کے ساتھ امتیازی سلوک کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں جنہیں یومیہ 410 روپے کا وظیفہ ملتا ہے جو بھارت کے کسی بھی علاقے سے سب سے کم ہے اور ہسپتال کی کینٹین میں ایک وقت کا کھانا پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ اس وظیفے کو بڑھانے کی تجویز گیارہ مہینوں سے تعطل کا شکار ہے اور اسے حال ہی میں بغیر کسی وضاحت کے مسترد کر دیا گیا جس سے کشمیری نوجوانوں کے لیے پیشہ ورانہ مواقع کو روکنے کی منظم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔نائب تحصیلدار کے عہدوں کے لیے قابلیت کے معیار کے طور پر اْردو کو ہٹائے جانے کے بعد ثقافتی اور لسانی خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں جسے سماجی کارکن لسانی عصبیت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ یہ فیصلہ کشمیری بولنے والے امیدواروں کو لسانی فائدے سے محروم کرنے کے لئے لیا گیا کیونکہ مقامی انتظامی ریکارڈ اردو زبان میں ہے اور یہ ثقافتی شناخت کو مٹانے کی طرف بھی ایک قدم ہے۔ریزرویشن کی یکطرفہ پالیسیاں ، انٹرنیز کا معاشی استحصال اور اردو کو نظرانداز کرنے جیسے مسائل کو بہت سے لوگ مقامی آبادی کو بے اختیار کرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بی جے پی کی زیرِقیادت حکومت عدم مساوات کو فروغ دے رہی ہے اور علاقے میں آبادیاتی اور ثقافتی تبدیلیوں کو ہوا دے رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی شکایات بڑھتی جارہی ہیں اور وہ شفافیت اور انصاف کا مطالبہ کررہے ہیں۔
بھارت کا شاندار آئین ملک کے ہر ایک باشندے کو تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ اور اسی آئین کی پاسداری کرتے ہوئے تعلیم اور روزگار سے منسلک ہر ایک ادارہ اور ان اداروں کی ذیلی شاخائیں بلا لحاظ مذہب و مسلک اور رنگ و نسل ہر فرقے کے ہر فرد کو نہ صرف مواقع فراہم کرتا ہے بلکہ مواقع کو حاصل کرنے میں ہر فرد کی مدد اور رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ملک میں مسلمانوں کے حقوق اور تعلیم و روزگار کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں اور افراد کا بھی یہی واویلا ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضوں کو بھانپ کر اور جدید تعلیم اور روزگار کے وسیلوں اور معیارات کو سمجھ کر اپنے بچوں کو پڑھائیں اور جو لوگ اس قابل نہیں کہ وہ پڑھائی کا خرچہ اٹھاسکیں, ان کے لئے مسلم سماج کے امیر لوگ آگے آئیں اور پچھڑے ہوئے طبقے کے بچوں کے لئے تعلیم کا بندوبست کریں۔بھارت کے حکمرانوں نے شروع دن سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ماتحت حکومت اور انتظامی نظام کا ڈھانچا کھڑا کر دیا۔ علاقے کے مسلمان لیڈروں کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے ان سے وعدہ کیا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے کو خودمختاری دے دی جائے گی۔ اس لیے مسلم کشمیری لیڈر بھارت کے حامی بن گئے۔ بھارت نے اپنے وعدے کو بھارتی آئین کے آرٹیکل370 میں شامل کیا لیکن یہ خودمختاری حقیقت میں نہیں دی گئی۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے بھارت کے کے حقوق ہے اور کے لیے کے لئے

پڑھیں:

لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ

پنجاب میں بارشوں کے بعد لاہور کے ڈی ایچ اے میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑا ہوگیا۔ رابی پیرزادہ نے بھی اپنے گھر کے قریب کھڑے پانی کی ویڈیو بناتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے شکوہ کر ڈالا۔

رابی پیرزادہ نے اپنے فیس بک پیج پر بارش کے بعد کھڑے ہوئے پانی کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس کا کیپشن ’’بارش کے بعد لاہور کی صورت حال اور مریم نواز کا ستھرا پنجاب‘‘ دیا ہے۔ اور ویڈیو پر لکھا ہے ’’مریم نواز صاحبہ، دیکھیں لاہور کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘‘۔

رابی پیرزادہ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’مریم نواز صاحبہ! یہ میں اپنے گھر میں کھڑی ہوں، جو کہ لاہور کے مہنگے ترین علاقے میں آتا ہے، یہ ڈی ایچ اے فیز ون ہے۔ میرے آفس ، میرے اسکول کے اندر بہت نقصان ہوا ہے۔ وہ شعیب صاحب جن سے آپ ساری انفارمیشن لیتی ہیں وہ پتا نہیں کس علاقے میں رہتے ہیں۔ ڈی ایچ اے کا حال بہت خراب ہے۔ مجھے نہیں پتا وہ 960 گاڑیاں کہاں کام کررہی ہیں۔‘‘

https://www.facebook.com/RabiPirzadaMusic/videos/%D8%A8%D8%A7%D8%B1%D8%B4-%DA%A9%DB%92-%D8%A8%D8%B9%D8%AF-%D9%84%D8%A7%DB%81%D9%88%D8%B1-%DA%A9%DB%8C-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B1%DB%8C%D9%85-%D9%86%D9%88%D8%A7%D8%B2-%DA%A9%D8%A7-%D8%B3%D8%AA%DA%BE%D8%B1%D8%A7-%D9%BE%D9%86%D8%AC%D8%A7%D8%A8lahore-rain-suthrapunj/1344354571218376/

رابی پیرزادہ نے بارش کے بعد علاقے کی زبوں حالی کا شکوہ کیا۔ بعد ازاں ویڈیو کے کمنٹس میں لکھا ’’یہ ویڈیو ڈی ایچ اے میں ضرور ریکارڈ ہوئی ہے، مگر بارش کے بعد تقریباً پورے لاہور کا یہی حال ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد کسی مخصوص علاقے یا ادارے پر تنقید کرنا نہیں، بلکہ اربابِ اختیار تک عوام کی مشکلات پہنچانا ہے تاکہ بروقت اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘

رابی پیرزادہ کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ تاہم کئی صارفین نے کمنٹ کیا کہ شدید بارش کے بعد پانی کا کھڑا ہونا عام بات ہے، جو کہ فوری نہیں نکالا جاسکتا۔ لیکن چند گھنٹوں بعد پانی کی نکاسی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا