بھارت،حجاب والی لڑکی کو ریلوے امتحان دینے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھائو نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ہندوتوا کی مودی حکومت کی جانب سے مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے،گجرات کے بھائو نگر میں اس وقت
تنازع کھڑا ہو گیا جب حجاب پہننے والی لڑکی کو امتحان دینے سے انکار کر دیا گیا۔ جمعیت علماء ہند نے ایک شکایت درج کرائی ہے، جس میں امتحانی مرکز کے نگرانوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کا امتحان 24 دسمبر 2025 کو بھائو نگر میں منعقد ہوا تھا۔ یہ امتحان بھائو نگر کے تراسمیا میں واقع ایک سرکاری اسکول جے پی ایم انفوٹیک میں منعقد ہوا تھا۔ بھائو نگر میں ایک مسلم لڑکی حجاب پہنے ہوئے امتحان میں شریک ہوئی۔ انسپکٹرز نے اس کا حجاب اتارنے پر اصرار کیا، لیکن لڑکی نے جواب دیا کہ میں صرف خواتین کو اپنا چہرہ دکھاؤں گی، مردوں کو نہیں۔ آپ کسی خاتون انسپکٹر کو بلا کر میرا چہرہ اور شناختی کارڈ چیک کر سکتے ہیں۔اس واقعہ کے تعلق سے جمعیت علماء ہند نے ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علماء ہند نے کہا کہ لڑکی نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی انسپکٹر کی ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالی۔ اس نے انسپکٹر کے ساتھ تعاون کیا، لیکن انسپکٹر نے انکار کر دیا۔ انسپکٹر نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا اگر تم جیسے لوگ امتحان نہ دیں اور گالی گلوچ کی۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد انسپکٹر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ مزید برآں انہوں نے مطالبہ کیا کہ زبان، مذہب، ذات پات یا سماجی مذہبی بنیادوں پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔یہ بات قابل غور ہے کہ مختلف امتحانی بورڈز نے پہلے کہا ہے کہ وہ مذہبی لباس جیسے حجاب کی اجازت دیں گے، بشرطیکہ امتحان پرائیوٹ اور خواتین عملے کے ذریعے منعقد کیا جائے۔ تاہم اس معاملے پر ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کی طرف سے کوئی سرکاری بیان یا گجرات پولیس کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مطالبہ کیا بھائو نگر
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔