بھارت،حجاب والی لڑکی کوریلوےامتحان دینےسےروک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
بھاﺅ نگر: بھارت میں ہندوتوا کی مودی حکومت کی جانب سے مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے،گجرات کے بھاﺅ نگر میں اس وقت تنازع کھڑا ہو گیا جب حجاب پہننے والی لڑکی کو امتحان دینے سے انکار کر دیا گیا۔
جمعیت علماءہند نے ایک شکایت درج کرائی ہے، جس میں امتحانی مرکز کے نگرانوں کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کا امتحان 24 دسمبر 2025 کو بھاﺅ نگر میں منعقد ہوا تھا۔ یہ امتحان بھاﺅ نگر کے تراسمیا میں واقع ایک سرکاری اسکول جے پی ایم انفوٹیک میں منعقد ہوا تھا۔
بھاﺅ نگر میں ایک مسلم لڑکی حجاب پہنے ہوئے امتحان میں شریک ہوئی۔
انسپکٹرز نے اس کا حجاب اتارنے پر اصرار کیا، لیکن لڑکی نے جواب دیا کہ میں صرف خواتین کو اپنا چہرہ دکھائوں گی، مردوں کو نہیں۔ آپ کسی خاتون انسپکٹر کو بلا کر میرا چہرہ اور شناختی کارڈ چیک کر سکتے ہیں۔
اس واقعہ کے تعلق سے جمعیت علماءہند نے ایڈیشنل کلکٹر کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
جمعیت علماءہند نے کہا کہ لڑکی نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی انسپکٹر کی ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالی۔ اس نے انسپکٹر کے ساتھ تعاون کیا، لیکن انسپکٹر نے انکار کر دیا۔
انسپکٹر نے یہ بھی کہا کہ بہتر ہوگا اگر تم جیسے لوگ امتحان نہ دیں اور گالی گلوچ کی۔
تنظیم نے مطالبہ کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی جانچ کے بعد انسپکٹر کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ مزید برآں انہوں نے مطالبہ کیا کہ زبان، مذہب، ذات پات یا سماجی مذہبی بنیادوں پر کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ مختلف امتحانی بورڈز نے پہلے کہا ہے کہ وہ مذہبی لباس جیسے حجاب کی اجازت دیں گے، بشرطیکہ امتحان پرائیوٹ اور خواتین عملے کے ذریعے منعقد کیا جائے۔ تاہم اس معاملے پر ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کی طرف سے کوئی سرکاری بیان یا گجرات پولیس کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل مطالبہ کیا بھاﺅ نگر
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :