ٹاؤن کا انفرا اسٹرکچر بحال کرنے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں گے‘ ڈاکٹر فواد
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ٹاؤن میونسپل کارپوریشن گلشن اقبال کا 14 واں اجلاس چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد کی زیرِ صدارت ہوا۔ اجلاس میں ٹاؤن وائس چیئرمین ابراہیم صدیقی سمیت ارکان کونسل نے شرکت کی۔ اجلاس میں گلِ داؤدی کی نمائش، پرندوں کی نمائش، ملازمین کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (DPC) کی تشکیل، 16 دسمبر سقوطِ ڈھاکا اور آرمی پبلک اسکول سانحہ کی یاد میں قرارداد، بی آر ٹی منصوبے پر کام تیز کرنے، سوئی سدرن گیس کی جانب سے روڈ کٹنگ کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے ترقیاتی کاموں کے لیے ٹینڈرز کی منظوری سمیت دیگر اہم امور شامل تھے جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین گلشن اقبال ٹاؤن ڈاکٹر فواد احمد نے کہا کہ ٹاؤن انتظامیہ درست سمت میں گامزن ہے اور محدود وسائل کے باوجود الحمدللہ گلشن اقبال کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے میں کافی حد تک کامیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے میں تاخیر کے باعث ٹاؤن کی اندرونی سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے جس سے نہ صرف انفرا اسٹرکچر متاثر ہوا ہے بلکہ شہریوں کی آمدورفت میں شدید مشکلات اور ٹریفک حادثات اور فضائی آلودگی کے باعث مختلف امراض کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ ٹاؤن کی تمام یونین کمیٹیز میں بلا تفریق بلدیاتی خدمات فراہم کی گئیں اور ہر یوسی کو خودمختار بنانے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم اس تجربے کے مطلوبہ مثبت نتائج حاصل نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود دستیاب وسائل میں عوامی فلاح کے زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کونسل میں موجود پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اراکین سے بھی اپیل کی کہ وہ اعلیٰ حکام سے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے گلشن اقبال کے عوام کے لیے ریلیف فراہم کرنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلشن اقبال کے لیے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔