3 سے 4 نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کے قیام کا منصوبہ ہے، وزیر بحری اُمور
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزیر بحری اُمور جنید انوار چوہدری کی زیر صدارت نئی بندرگاہوں کی تعمیر اور ترقی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں مستقبل کی بندرگاہی منصوبہ بندی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر بحری امور نے کہا کہ نئی بندرگاہوں کی ترقی میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی حیثیت دی جائے گی اور ڈیپ سی بندرگاہوں کی منصوبہ بندی میں معیشت اور ماحول کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ سمندری شعبے کی آئندہ سو سالہ ترقی حکومت کی قومی ترجیح ہے جبکہ بڑی بندرگاہوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے ایک مؤثر تجارتی ماڈل کا قیام ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی بندرگاہوں کے لیے تکنیکی اور ماحولیاتی جانچ کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
وزیر بحری امور نے واضح کیا کہ مینگرووز اور ساحلی ماحولیاتی نظام کا تحفظ بندرگاہی پالیسی کا لازمی حصہ ہوگا اور نئی بندرگاہیں علاقائی تجارت اور لاجسٹکس کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تین سے چار نئی ڈیپ سی بندرگاہوں کے قیام کا منصوبہ ہے۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ نئی بندرگاہوں میں سبز توانائی اور جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں گے جبکہ موجودہ بندرگاہوں کی گنجائش مکمل ہونے سے قبل متبادل انتظامات ناگزیر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔