تجارت کے لیے نئی بندرگاہیں ضروری ہیں،وفاقی وزیربحری امور
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260101-08-11
اسلام آباد(صباح نیوز)وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقوں میں نئی گہرے پانی کی بندرگاہوں کی ترقی میں معاشی نمو اور مضبوط ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن ناگزیر ہے۔ نئی بندرگاہوں کی تعمیر سے متعلق بدھ کو اعلیٰ سطحی، کثیر الادارہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافے، علاقائی ٹرانزٹ تجارت اور بڑھتی ہوئی شپنگ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی بندرگاہیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ بڑی بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ چھوٹی، بزنس ماڈل پر مبنی بندرگاہوں کی ترقی بھی ضروری ہے تاکہ موجودہ بندرگاہوں پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ جنید انوار چودھری نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں آئندہ ایک صدی کی بحری توسیع اور معاشی تبدیلی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر
جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کم ہو کر دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل لے جانے والا جہاز نیو جائنٹ، جس میں تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لدا تھا، جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزر کر چین کی بندرگاہ ریژاؤ پورٹ کی جانب روانہ ہوا۔