data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260101-08-5
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) حکومت نے شپنگ کارپوریشن کا انتظام فوج کے ذیلی ادارے این ایل سی کو سونپنے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو درپیش چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کو پی این ایس سی کی مینجمنٹ سنبھالنے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، ری ا سٹرکچرنگ کے حصے کے طور پر شپنگ کارپوریشن کے 30 فیصد حصص کی مارکیٹ ویلیو پر جانچ کی جائے گی، این ایل سی ضروری سرمایہ پیدا کرکے بیڑے کی مضبوطی اور توسیع میں سرمایہ کاری کرے گا۔حکام کا کہنا ہے این ایل سی اور پی این ایس سی کے انضمام سے مالی بنیاد مضبوط ہوگی، سرمایہ کاری آئے گی اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو میری ٹائم آپریشنز سے ہم آہنگ کیا جائے گا، وسیع تر شیئر ہولڈنگ کے ذریعے زیادہ فنڈنگ دستیاب ہوگی جس سے فلیٹ کی تجدید اور اثاثوں کے بہتر استعمال میں تیزی آئے گی۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پی این ایس سی 45 جہازوں سے گھٹ کر اب صرف 13 جہاز چلا رہی ہے ، جن میں سے زیادہ تر پرانے ہیں، تقریباً 50 فیصد فلیٹ کی عمر 20 سال سے زائد ہے، اگرچہ کارپوریشن نے مالی سال 2024/25ء میں تکنیکی طور پر خالص منافع ظاہر کیا تاہم یہ اعداد و شمار گہری سٹرکچرل کمزوریوں کو چھپاتے ہیں، آمدن میں سال بہ سال تقریباً 19 فیصد کمی ہوئی۔ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجموعی منافع کی شرح کم ہوکر 29.

8 فیصد رہ گئی، مالی سال 2025/26ء کے نتائج کے مطابق خالص منافع 34 فیصد کمی سے 3.71 ارب روپے رہ گیا، اس منافع کا بڑا حصہ اثاثہ جات کی فروخت یا چارٹرنگ سے حاصل ہوا نہ کہ پائیدار شپنگ آپریشنز سے ہوا، مالی کمزور کارکردگی کی وجوہات میں بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور مفاداتی عناصر شامل ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شپنگ کارپوریشن ایل سی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ