افغان طالبان کی علم دشمنی،سیکڑوں تعلیمی، تاریخی اور سیاسی کتب پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 1st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان نے افغانستان میں علم، تحقیق اور فکری آزادی کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھیں، طالبان کی علم دشمن پالیسیوں کے باعث نوجوان نسل کا تعلیمی اور فکری مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔افغان جریدہ ہشت صبح نے ایک بار پھر طالبان کی علم دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سینکڑوں تعلیمی، تاریخی اور سیاسی کتب کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جس سے تعلیمی و فکری آزادی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی کی نصابی کتب اور سینکڑوں عوامی مطالعے کی کتابوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق، جمہوریت، انتخابی نظام اور آئینی قانون سے متعلق تعلیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سوشیالوجی، فلسفہ اخلاق اور دیگر اہم مضامین بھی نصاب سے نکال دیے گئے ہیں۔اے اے این کے مطابق خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریروں کو بھی ممنوع فہرست میں شامل کیا گیا ہے، طالبان نے افغانستان کی تاریخ اور سیاست سے متعلق اہم کتب پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔علاوہ ازیںافغانستان کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی صوبہ بلخ میں حجاموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو داڑھی منڈوانے کی خدمات پیش کرنا بند کر دیں۔اخبار اطلاعات روز کی ویب سائٹ نے 30 دسمبر کو خبر دی کہ طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکیوں کا حکم دینا اور برائی کو روکنا) نے حجام کو یہ ہدایات دی ہیں۔حجاموں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے انھیں متنبہ کیا کہ وہ مردوں کے بالوں کو اس انداز میں نہ بنائیں جسے وہ ’مغربی‘ فیشن قرار دیتے ہیں۔قبل ازیںافغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں طالبان نے درجنوں آلات موسیقی جمع کرکے نذرِ آتش کر دیے۔ننگرہار کے گورنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت سے وابستہ اہلکاروں نے جلال آباد شہر میں کارروائی کے دوران 86 موسیقی کے آلات ضبط کیے جنہیں ایک مشترکہ کمیٹی کی موجودگی میں جلایا گیا۔بیان کے مطابق یہ اقدام ان سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اٹھایا گیا جنہیں طالبان نے غیر اخلاقی قرار دیا ہے اور ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔دوسری جانب افغان طالبان نے ملک کے شمال مشرقی صوبے تخار میں ایک نجی تقریب میں موسیقی بجانے کے الزام میں کم از کم 25 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طالبان نے طالبان کی کے مطابق گیا ہے
پڑھیں:
یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔
اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔
فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔
جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔
ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔