کابل: افغان طالبان نے افغانستان میں علم، تحقیق اور فکری آزادی کے خلاف سخت ترین اقدامات کرتے ہوئے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رکھیں، طالبان کی علم دشمن پالیسیوں کے باعث نوجوان نسل کا تعلیمی اور فکری مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو چکا ہے۔

افغان جریدہ ہشت صبح نے ایک بار پھر طالبان کی علم دشمن پالیسیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سینکڑوں تعلیمی، تاریخی اور سیاسی کتب کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے جس سے تعلیمی و فکری آزادی شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔

دی افغانستان اینالیسٹس نیٹ ورک (AAN) کے مطابق طالبان نے 670 سے زائد یونیورسٹی کی نصابی کتب اور سینکڑوں عوامی مطالعے کی کتابوں پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق، جمہوریت، انتخابی نظام اور آئینی قانون سے متعلق تعلیم کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سوشیالوجی، فلسفہ اخلاق اور دیگر اہم مضامین بھی نصاب سے نکال دیے گئے ہیں۔

اے اے این کے مطابق خواتین اور ایرانی مصنفین کی تحریروں کو بھی ممنوع فہرست میں شامل کیا گیا ہے، طالبان نے افغانستان کی تاریخ اور سیاست سے متعلق اہم کتب پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

علاوہ ازیںافغانستان کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک کے شمالی صوبہ بلخ میں حجاموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے گاہکوں کو داڑھی منڈوانے کی خدمات پیش کرنا بند کر دیں۔

اخبار اطلاعات روز کی ویب سائٹ نے 30 دسمبر کو خبر دی کہ طالبان کی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکیوں کا حکم دینا اور برائی کو روکنا) نے حجام کو یہ ہدایات دی ہیں۔

حجاموں نے یہ بھی کہا ہے کہ طالبان اہلکاروں نے انھیں متنبہ کیا کہ وہ مردوں کے بالوں کو اس انداز میں نہ بنائیں جسے وہ ’مغربی‘ فیشن قرار دیتے ہیں۔

قبل ازیںافغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں طالبان نے درجنوں آلات موسیقی جمع کرکے نذرِ آتش کر دیے۔ننگرہار کے گورنر آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی وزارت سے وابستہ اہلکاروں نے جلال آباد شہر میں کارروائی کے دوران 86 موسیقی کے آلات ضبط کیے جنہیں ایک مشترکہ کمیٹی کی موجودگی میں جلایا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل طالبان نے گیا ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل