اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت تعلیمی اداروں میں بھرتیوں کے لیے پے اسکیل نظام کے جائزے کے لیے قائم ٹاسک فورس کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹی ٹی ایس (Tenure Track System) اسکیل کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں کو مارکیٹ کے مطابق مسابقتی بنایا جائے گا تاکہ قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو تعلیمی اداروں سے منسلک رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خطیر فنڈز فراہم کیے گئے، تاہم صوبائی حکومتوں کو بھی ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں مزید ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔

وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو کارکردگی کی بنیاد پر مراعات دینے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے، جبکہ باصلاحیت اساتذہ کی تعلیمی اداروں میں خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا معیار براہ راست اساتذہ کے معیار سے جڑا ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ملک کے معاشی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پروموشن کے نظام کو مکمل طور پر مسابقت کی بنیاد پر ترتیب دیا جا رہا ہے، جبکہ اس وقت اعلیٰ تعلیم میں داخلہ شرح 13 فیصد سے بھی کم ہے جس میں کم از کم تین گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یو ایس پاکستان اور یو کے نالج کوریڈور کا قیام انسانی وسائل کے معیار میں بہتری کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ چین سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اعلیٰ سطح کی افرادی قوت کی تیاری کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ اب سافٹ پاور کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے اور بیرونِ ممالک سے طلبہ کو پاکستان کی جامعات میں راغب کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2026 سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی کے آڈٹ اور درجہ بندی کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا تاکہ معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پروفیسر احسن اقبال تعلیمی اداروں وفاقی وزیر نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔

حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔

وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ