ٹی ٹی ایس اساتذہ کی تنخواہوں کو مارکیٹ مطابق مسابقتی بنایا جائیگا، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 31st, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت تعلیمی اداروں میں بھرتیوں کے لیے پے اسکیل نظام کے جائزے کے لیے قائم ٹاسک فورس کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ٹی ٹی ایس (Tenure Track System) اسکیل کے تحت بھرتی ہونے والے اساتذہ کی تنخواہوں کو مارکیٹ کے مطابق مسابقتی بنایا جائے گا تاکہ قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو تعلیمی اداروں سے منسلک رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کو خطیر فنڈز فراہم کیے گئے، تاہم صوبائی حکومتوں کو بھی ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں مزید ذمہ داری اٹھانا ہو گی۔
وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ قابل اور باصلاحیت اساتذہ کو کارکردگی کی بنیاد پر مراعات دینے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے، جبکہ باصلاحیت اساتذہ کی تعلیمی اداروں میں خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا معیار براہ راست اساتذہ کے معیار سے جڑا ہے اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ملک کے معاشی مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پروموشن کے نظام کو مکمل طور پر مسابقت کی بنیاد پر ترتیب دیا جا رہا ہے، جبکہ اس وقت اعلیٰ تعلیم میں داخلہ شرح 13 فیصد سے بھی کم ہے جس میں کم از کم تین گنا اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یو ایس پاکستان اور یو کے نالج کوریڈور کا قیام انسانی وسائل کے معیار میں بہتری کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ چین سمیت عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اعلیٰ سطح کی افرادی قوت کی تیاری کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ اب سافٹ پاور کا ایک اہم عنصر بن چکا ہے اور بیرونِ ممالک سے طلبہ کو پاکستان کی جامعات میں راغب کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2026 سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی کے آڈٹ اور درجہ بندی کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا تاکہ معیارِ تعلیم کو بہتر بنایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پروفیسر احسن اقبال تعلیمی اداروں وفاقی وزیر نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔